30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی اس مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیں تا کہ وہ بھی اس کی طرح دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر نیکی کی دعوت عام کرنے اور برائیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے عظیم کام میں شریک ہوجائیں اور دعوتِ اسلامی کا یہ عظیم مدنی مقصد ہر وقت ان کی زبانوں پر رہے :
مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔اِنۡ شَآءَ اللہُعَزَّ وَجَلَّ
اس عظیم مدنی مقصد کا عملی نمونہ بننے کے لئے ہمیں مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہو گا۔ اس کی برکت سے ہم صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے گھر والوں کی اصلاح کا بھی ذریعہ بنیں گے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اور پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے حضرت سیِّدُنا عُوَیۡمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لانے کا واقعہ تو جان لیا مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر عظیم صحابی ہیں؟ تو جان لیجئے کہ انہیں سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ چنانچہ،
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان”مراٰۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح “میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدَرْدَاء کا نام عُوَیۡمِر بِنۡ عَامر ہے انصاری خزرجی ہیں۔دَرْدَاء آپ کی بیٹی کا نام ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑے عالم فقیہ تھے ۔٣۲ھ میں دمشق میں وفات پائی۔(مراۃ المناجیح، كتاب المناقب، ج8، ص548)
اَللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وعدہ :
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے عاشق رسول ہیں کہ آپ کے مسلمان ہو جانے کا وعدہ خود رب العزت نے اپنے محبوب تاجدارِ رسالت، ماہِ نُبوت، محسن انسانیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے فرمایا تھا۔ چنانچہ،
ایک مرتبہ حضورنبیٔ پاک، صاحبِ لولاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہاَللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے ابو دَرْدَاء کے مسلمان ہو جانے کاوعدہ فرمایا اور آخر کار وہ مسلمان ہو گئے ۔ (تاریخ دمشق، الرقم 5464 عویمر بن زید بن قیس، ج 47، ص105)
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور گھر کا مدنی ماحول :
میٹھے میٹھے اور پیارے پیارے اسلامی بھائیو!کتنی عظمت کی بات ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے دامن کرم سے وابستہ ہوئے تو نہ صرف خود مدنی رنگ میں رنگ گئے بلکہ آپ کے گھر والے بھی مدنی ماحول کی برکتوں سے محروم نہ رہے ۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر میں ایسا مدنی ماحول تھا کہ سارا گھرانہ ہی تقویٰ و پرہیزگاری کا عملی نمونہ تھا۔ گھر میں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی میٹھی و پیاری سنتوں پر عمل کا ایسا جذبہ پیدا ہو گیا کہ سب کے سب سنتوں کے عملی مبلغ بن گئے ۔ اور آپ نے اپنے گھر والوں کو دنیا اور اس سے بے رغبتی کا ایسا درس دیا کہ ان کے دلوں سے دنیا اور مالِ دنیا کی محبت ختم ہو گئی۔ چنانچہ،
سیدنا ابو دَرْدَاء کی شہزادی کی شادی :
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی کے بارے میں دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینۃ کی مطبوعہ 413 صَفحات پر مشتمل کتاب”عیون الحکایات (مترجم) “ صَفْحَہ 351 پر ہے : یزیدبن معاویہ نے حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پیغام بھیجاکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کر دیں۔مگر حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انکارفرمادیا۔پھرایک غریب شخص (صفوان بن عبد الله بن صفوان بن أمية الجمحي) نے نکاح کا پیغام بھجوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبول فرمالیااوراپنی صاحبزادی کا نکاح اس غریب شخص سے کردیا۔
لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی صاحبزادی کے لئے حاکم وقت کا رشتہ ٹھکرا دیا اور ایک غریب شخص سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کر دیا۔جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ”میں نے اپنی بیٹی دَرْدَاء کی بہتری سوچی ہے تم اس وقت دَرْدَاء کے بارے میں کیا سوچتے جب ایک دنیا دار بادشاہ اس کا شوہر ہوتا اور وہ ایسے گھر میں رہتی جس میں اس کی نظریں چکا چوندھ(یعنی اندھی) ہو جاتیں تو کیااس کا دین سلامت رہتا؟“(الزہد للامام احمد بن حنبل، باب زہد ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 761، ص165)
سُبۡحَانَ اللہِ !سیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدنی سوچ پرقربان جائیے ! کہ حاکم کے بیٹے کا رشتہ ٹھکرا رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ اپنی بیٹی کی شادی کرتے وقت یہ بھی نہیں دیکھتے کہ لڑکا نمازی اور عاشق رسول ہے کہ نہیں؟ یہ تو معلوم کرتے ہیں کہ ماہانہ آمدنی کتنی ہے ؟ مگر یہ نہیں پوچھتے کہ آمدنی کا ذریعہ کیا ہے ؟ چنانچہ،
لڑکا کیسا ہونا چاہیے ؟
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ”جب کوئی ایسا شخص تمہیں نکاح کا پیغام دے جسکا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے (فوراً اپنی لڑکی کا) نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ و فساد پیدا ہو جائے گا۔ “(سنن الترمذی، کتاب النکاح، باب اذا جاءکم من ترضون دینہ فزوجوہ، الحدیث : 1086، ج2، ص344)
مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اپنی شہرۂ آفاق کتاب مراٰۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیحمیں اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع