30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو
سیکھنے سنتیں قافلے میں چلو
طیبہ کی جستجو، حج کی گر آرزو
ہے بتا دوں تمہیں قافلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی کرامات
(1) ۔حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف( یا حضرت سیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اُن کی طرف) خط لکھتے تو انہیں پیالے والا واقعہ یاد دِلاتے ۔راوی اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہ دونوں بزرگ پیالے میں کھانا کھا رہے تھے کہ اس پیالے اور اس میں موجود کھانے نے ان کے سامنے اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کی ۔(فوائد أبی علی بن أحمد بن الحسن الصواف، اول الکتاب، ص49)
(2) ۔ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی پاس موجود تھے ۔ اچانک حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہنڈیا سے آواز سنی، آواز بلند ہوئی وہ اس طرح تسبیح بیان کر رہی تھی جس طرح بچہاَللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کرتا ہے ۔اس کے بعد وہ ہنڈیا اپنی جگہ سے ہٹی اور دوبارہ خود بخود اپنی جگہ پہنچ گئی اور اس سے کوئی چیز بھی نہ گری، حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو آواز دے کر فرمایا : ”اے سلمان(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ! یہ عجیب منظر دیکھیں! ایسامنظر آپ نے دیکھا ہوگا نہ آپ کے والد نے ۔“ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ”اگر آپ خاموش رہتے تواَللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس سے بڑی بڑی نشانیاں دیکھتے ۔“(المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الزھد ، کلام ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 18، ج8، ص169)
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا :
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر اپنے پروردگار لم یزل سے یہ دعا مانگا کرتے تھے :
اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ، اَللہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَ أَھْلِیْ وَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔
یعنی اے اَللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے تیری، تیرے چاہنے والوں کی اور ہر اس عمل کی محبت کا مانگتاہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے ، اے اَللہ عَزَّ وَجَلَّ!اپنی محبت کو میرے نزدیک میری جان، میرے گھروالوں اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے ۔(جامع الترمذی، کتاب الدعوات ، باب دعاء داود علیہ السلام۔الخ، الحدیث : 3501، ج5، ص296)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!جو لوگ سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح دنیا میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں، جن کے پیش نظر ہمیشہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی خوشی و رضا ہوتی ہے تو ان کا ربّ عَزَّ وَجَلَّ بھی ان پر اپنی رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں کے خزانے کھول دیتا ہے ۔ چنانچہ،
بے مثال جنتی نعمتیں :
حضرت سیِّدُنا عَوْف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ”میں نے خواب میں ایک گندمی رنگ کا قُبَّہ(یعنی گنبد) دیکھاجس کے اِردگرد سبز چراگاہ میں بکریاں چَر رہی تھیں، توپوچھا : ” یہ کس کاہے ؟“جواب ملا : ”یہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا ہے ۔“ راوی کہتے ہیں : ”کچھ دیر بعد سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخود اس قبہ سے نکلے اور مجھ سے فرمایا : ”اے عَوْف! اَللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں یہ سب کچھ قرآنِ مجید کی تلاوت کا اجرعطا فرمایا ہے اور اگر تم اس ٹیلے پرچڑھ کردیکھو تو وہاں ایسی ایسی نعمتیں پاؤگے کہ ان کی مثل تمہاری آنکھوں نے کبھی دیکھیں نہ تمہارے کانوں نے کبھی ان کا تذکرہ سنا، اور نہ ہی تمہارے دِ ل میں کبھی ان کا خیال گزرا، اور یہ سب اَللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے تیارکی ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کو ان راحتوں کے لئے چھوڑ دیا۔“(الزہد للامام احمد بن حنبل ، باب زہد ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 714، ص159، بتغیرٍ)
اَللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰیہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الۡاَمِیۡنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ
1- صحيح البخاري : الإمام أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري المتوفي 256 ﻫ دارالكتب العلمية بيروت.
2- صحيح المسلم : الإمام أبو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري المتوفي 261 ﻫ دار ابن حزم.
3- سنن ابن ماجه : الإمام أبو عبد الله محمد بن يزيد بن ماجه المتوفي 273 ﻫ دار المعرفة بيروت.
4- سنن أبي داؤد : الإمام ابو داؤد سليمان بن الأشعث السجستاني المتوفي$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع