دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Sayyiduna Abu Darda رضی اللہ تعالٰی عنہ | سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

book_icon
سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کاش! میں مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا                 سینگ والا چتکبرا مَینڈھا بن گیا ہوتا

تار بن گیا ہوتا مرشدی کے کُرتے کا              مرشدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا

دو جہاں کی فکروں سے یوں نَجات مل جاتی       میں مدینے کا سچ مچ کتّا بن گیا ہوتا

کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طیبہ کی            مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا

پھول بن گیا ہوتا گلشن مدینہ کا      کاش! ان کے صَحرا کا خار بن گیا ہوتا

میں بجائے انساں کے کوئی پودا ہوتا یا             نخل بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا

گلشن مدینہ کا کاش! ہوتا میں سبزہ   یا بطورِ تنکا ہی میں وہاں پڑا ہوتا

مرغ زارِ طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ    گرد شمع پھر پھر کر کاش! جل گیا ہوتا

کا ش ! خَر یاخَچَّر یا گھوڑا بن کر آتا اور                آپ نے بھی کھو نٹے سے با ندھ کر رکھا ہوتا

جاں کنی کی تکلیفیں ذَبح سے ہیں بڑھ کر کاش !   مرغ بن کے طیبہ میں ذَبح ہو گیا ہوتا

آہ! کثرتِ عصیاں ہائے ! خوف دوزخ کا            کاش! اِس جہاں کا میں نہ بَشَر بنا ہوتا

شور اُٹھا یہ محشر میں خُلد میں گیا عطارؔ

                     گر نہ وہ بچاتے تو نار میں گیا ہوتا(وسائلِ بخشش، ص 142)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                        صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کوئی صبح جاتا ہے تو کوئی شام :

حضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے : ” تم صبح کو چل پڑے ہم شام کو تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔“ یا فرماتے : ”تم شام کو چلے ہم صبح آنے والے ہیں ، موت بہت بڑی نصیحت ہے لیکن غفلت بھی بہت جلد طاری ہو جاتی ہے اور نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے ، متقدمین (یعنی سلف صالحین) اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو بعد والے ہیں ان میں حِلْم و بُردْباری نام کی کوئی چیز نہیں ۔“(الزہد لابی داؤد، باب من خبر الی الدَرْدَاء ، الحدیث : 261، ص222)

 سیِّدُنا ابو دَرْدَاء کی تین محبوب چیزیں :

حضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں موت کو ترجیح دیتا۔عرض کی گئی : ”وہ تین چیزیں کون سی ہیں؟“ ارشادفرمایا : ”(1) دن رات اپنے ربّ عَزَّ   وَجَلَّ کے حضور سجدے کرنا(2) سخت گرمی کے دنوں میں پیاسا رہنا(یعنی روزے رکھنا) اور(3) ان لوگوں کے حلقوں میں بیٹھناجو کلام کوعمدہ پھلوں کی طرح چنتے ہیں ۔“پھر فرمایا : ”کمال درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ایک ذرّہ کے معاملے میں بھی اَللہ عَزَّ   وَجَلَّسے ڈرے اورجس حلال میں ذرہ بھر حرام کا شبہ ہو اسے ترک کر دے ، اس طرح وہ اپنے اور حرام کے درمیان مضبوط آڑ بنالے گا ۔ چنانچہ، اَللہ عَزَّ   وَجَلَّنے اپنے مقدّس کلام میں بندوں کے انجام کو بیان کرتے  ہوئے ارشاد فرمایا :

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) پ30، الزلزال : 7,8)

ترجمۂ کنزالایمان : توجوایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھربرائی کرے اسے دیکھے گا۔

اس لئے تم کسی برائی کو معمولی نہ سمجھو اورنہ ہی کسی نیکی کو حقیر جانو۔(الزہد الکبیرللبیہقی، الحدیث : 870، ص324)

اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ بھی فرمایا کرتے کہ تین چیزیں جنہیں لوگ ناپسند کرتے ہیں مجھے بہت محبوب ہیں : (١) فقر(٢) مرض اور(٣) موت۔(الزہد للامام احمد بن حنبل، باب زہد ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 736، ص162، بتغیرٍ)

ایک روایت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں دیدارِ باری تعالیٰ کے شوق کی وجہ سے موت کو پسند کرتاہوں ۔ اور اپنے ربّ عَزَّ   وَجَلَّ کے حضور گڑ گڑانے کے لئے فقرکوپسندکرتا ہوں اوربیماری کو اس لئے پسندکرتاہوں تاکہ یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہو۔ (المرجع السابق ، الحدیث : 811، ص172)

مَحبَّت میں اپنی گُما یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ

محبت میں اپنی گُما یا الہٰی                                      نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی
مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم                     ترے خوف سے یاخدا یا الہٰی
مرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر                    کر اُلفت میں اپنی فنا یا الہٰی

مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو                   کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰی

عبادت میں گزرے مری زندگانی                           کرم ہو کرم یا خدا یا الہٰی

مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے                                ہو ایمان پر خاتِمہ یا الہٰی

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                        صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیک عالم  کون؟

حضرت  سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم و عمل اور اہل علم سے بہت محبت تھی۔ آپ سے علما کی پہچان کے بارے میں بہت سے اقوال مروی ہیں۔ چنانچہ،

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن