دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Sayyiduna Abu Darda رضی اللہ تعالٰی عنہ | سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

book_icon
سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

بوجھ کم ہوگا اُسے آخِرت میں آسانی رہے گی ۔چنانچہ،

پُل صراط سے گزرنے والوں کے مختلف انداز :

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 480 صَفحات پر مشتمل کتاب، ”بیانات عطّاریہ (حصہ اول) صَفْحَہ 441 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہ فرماتے ہیں : اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے  کہ میرے سر تاج ، صاحِبِ معراج، محبوبِ ربِّ بے نیاز صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”جہنّم پر ایک پُل ہے جو بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے تیز تر ہے ، اس پر لوہے کے کنڈے اور کانٹے ہیں جوکہ اُسے پکڑیں گے جسے اَللہ تعالیٰ چاہے گا ۔لوگ اُس پر گزریں گے ، بعض پلک جھپکنے کی طرح ، بعض بجلی کی طرح، بعض ہوا کی طرح ، بعض بہترین اور اچھے گھوڑوں اور اُونٹوں کی طرح (گزریں گے ) اور فرشتے کہتے ہوں گے : ”رَبِّ سَلِّمْ ، رَبِّ سَلِّمْ“ اے پروَردگار! سلامتی سے گزار ، اے پروَر دگار! سلامتی سے گزار۔بعض مسلمان نَجات پائیں گے ، بعض زخمی ہوں گے ، بعض اوندھے ہوں گے ، بعض مُنہ کے بل جہنَّم میں گر پڑیں گے ۔ ( مسند امام احمد، الحدیث : ٢٤٨٤٧، ج ٩،  ص ٤١٥)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان مِرۡاٰۃُ الۡمَنَاجِیۡح میں پل صراط سے گزرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا، جیسا کہ عمل جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار۔ یہاں اَشِعَّۃُ اللَّمۡعَات نے فرمایا کہ اعمال سبب رفتار ہیں اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے قرب زیادہ اتنی رفتار تیز۔ (مراۃ المناجیح، حوض و شفاعت کا بیان، ج7، ص 474)

 سیِّدُنااَبُو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاخوفِ آخرت

ایک مرتبہ حضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی جنازے میں شرکت کے لئے گئے تو میت کے گھر والوں کو روتے دیکھ کر ارشاد فرمایا : ”یہ کیسے بھولے لوگ ہیں، کل خود مرنے والے ہیں اور آج اس مرنے والے پر رو رہے ہیں۔“(الزہد لابی داؤد، باب من خبر الی الدَرْدَاء ، الحدیث : 248، ص215)

لمحہ بھر غوروفکر کرنے کی فضیلت :

حضرت سَیِّدَتُنا ام دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ (آخرت کے معاملات میں ) لمحہ بھر غور و فکر کرنا ساری رات کی (نفلی) عبادت سے بہتر ہے ۔(الزہد لابی داؤد، باب من خبر الی الدَرْدَاء ، الحدیث : 209، ص192)

روزِ آخرت سب سے زیادہ خوف والی بات :

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آخرت کے حساب سے اس قدر ڈرتے تھے کہ فرمایا کرتے : ”مجھے سب سے زیادہ اس بات سے خوف آتا ہے کہ قیامت کے دن میرا نام لے کر پوچھا جائے : ”اے عُوَیْمَر!کیاتونے علم حاصل کیا یا جاہل رہے ؟“ اگر میں نے عرض کی کہ علم حاصل کیا ہے ۔تو پھرمجھ سے حکم اور ممانعت والی ہرآیت ِ قرآنی کے متعلق پوچھ گَچھ کی جائے گی کہ کیاتونے ان آیات پر عمل بھی کیا؟ میں نفع نہ دینے والے علم، سیر نہ ہونے والے نفس اور قبول نہ ہونے والی دعاسے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں۔“(الزہدلابی داؤد ، باب من خبر ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 224، ص201، مفہومًا)

ایک روایت میں ہے کہ آپ فرمایاکرتے کہ”مجھے سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ جب میں قیامت کے دن حساب کے لئے کھڑا ہوں تو مجھ سے کہا جائے :  تم نے علم توحاصل کیا لیکن اپنے علم پرعمل کیوں نہ کیا؟“(المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد ، باب کلام ابی الدَرْدَاء ، الحدیث : 19، ج8، ص169)

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ہلاکت ہے ہلاکت! اگر  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہکے خوفِ آخرت کا یہ عالم ہے کہ وہ اس بات سے ڈرا کرتے کہ کہیں قیامت کے دن ان سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ علم تو حاصل کیا لیکن عمل کیوں نہ کیا؟ تو ہمارا عالم کیا ہو گا؟ مقامِ غور ہے اور یہی نہیں بلکہ  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتو یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہاے کاش! میں انسان کے بجائے اپنے گھر والوں کے لئے بکری کا ایک بچہ ہوتا اور جب ان کے پاس کوئی مہمان آتا تو یہ اس بکری کے بچے کو ذبح کر لیتے اور خود بھی کھاتے اور مہمانوں کو بھی کھلاتے ۔(الزھد لابن مبارک، باب تعظيم ذكر الله عزوجل، الحدیث : 238، ص80)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام رِضۡوَانُ  اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمۡ اَجۡمَعِیۡناور دوسرے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے حسابِ آخرت سے ڈرنے کا یہ عالم تھا کہ وہ تمنا کیا کرتے کہ کاش دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتے ۔ اے کاش! ہمیں بھی خوفِ آخرت کی دولت نصیب ہو جائے ۔ ہمارے شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہ کا اس بارے میں کیا ہی خوب کلام ہے ، جسے نزع کی سختیوں، قبر کی ہو لناکیوں ، محشر کی دشواریوں اور جہنم کی خوفناک وادیوں کا تصور با ندھ کر خوفِ خداسے لرزتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے پڑھئے :

 

کاش ! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا              قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا

آہ! سَلْبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے           کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا

آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطورِ انساں کاش!          کاش! میں مدینے کا اُونٹ بن گیا ہوتا

اُونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قُرباں میں              کاش! دستِ آقا سے نحر ہوگیا ہوتا

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن