دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Rasool e Arabi صلی اللہ تعالی علیہ وسلم | سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

book_icon
سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

{3}…تیسری چیز کا ذکر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ فرمایا،  یا راوی ( سلیمان اَحوَل)  بھول گیا۔ ([1] )  اسی روز حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنا خلیفہ ٔ  نماز مقرر فرمایا اور وہ وفات شریف تک نماز پڑ ھا تے رہے۔ چھ یا سات دینا رجو حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس تھے وہ بھی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایام مرض میں تقسیم فرمادیئے اور کچھ باقی نہ چھوڑ ا۔ ([2] )  وفات شریف کا وقت عین قریب آپہنچا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثریوں وصیت فرماتے تھے:  ([3] )  اَلصَّلٰوۃُ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ۔ ([4] ) نماز اور غلام۔

            جب روح پاک نے جسم اطہر سے اعلیٰ عِلِّیِّین کی طرف پر واز کی تو الفاظ اللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی زبان مبارک پر تھے۔ ([5] )

             واضح رہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال شریف دو شنبہ کے دن دو پہر ڈھلے ہوا۔ وصال شریف کے بعد زمین تا ریک ہو گئی۔ اس صدمہ سے صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا جو حال ہوا وہ بیان نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غسل دیا۔ حضرت عباس وفضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلو بد لنے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی مدد کر رہے تھے اور قُثَم بن عباس اور اُسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غلام شُقْران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پا نی ڈال رہے تھے۔ سوائے ـحضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے باقی سب آنکھوں پر رو مال با ند ھے ہوئے تھے تا کہ جسد شریف پر نظر نہ پڑے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کفن میں تین سو تی کپڑے سُحُول کے بنے ہو ئے تھے جن میں قمیص وعمامہ نہ تھا۔

             شب چہار شنبہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دفن کیا گیا۔ تا خیر کی وجہ کئی امور تھے چنانچہ مہاجرین و انصار میں بیعت کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا،  اس اختلاف کا فیصلہ ہو تے ہی اس امر میں اختلافِ آراء ہوا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کہاں دفن کیا جائے۔ قبر شریف میں لحد چاہیے یا شق۔ آخر کا ر حضرت ابوطلحہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لحد کھودی۔ نماز جنازہ حجر ہ شریف کے اندر ہی بغیر امامت الگ الگ پڑ ھی گئی۔ پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچو ں نے پھر غلاموں نے نماز پڑھی۔ بعد ازاں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بالاتفاق حجرہ شریف ہی میں جہاں وصال شریف ہو ا تھادفن کر دیا گیا۔ بنا بر قول اصح حضرت عباس وعلی و قُثَم  وفضل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم قبر شریف میں اترے۔ لحد کی اینٹیں کچی نو تھیں ۔ حضرت قُثَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سب سے اَخیر میں قبر مبارک سے نکلے۔

             حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بطور میراث کچھ نہیں چھوڑ اجو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چھوڑ اوہ صدقہ ووقف تھا اور اس کا مصرف وہی تھا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات شریف میں تھا،  چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد مبارک ہے: لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔ ([6] )  ہم  (انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)   کسی کو وارث نہیں بنا تے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ووقف ہے۔  (بخاری شریف،  کتاب الجہاد)  

                حضرت عمرو بن حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جوام المؤمنین جُوَیْرِیَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھائی تھے،  یوں روایت ہے: مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِہٖ دِیْنَارًا وَّ لَا دِرْھَمًا وَّ لَا عَبْدًا وَّ لَا اَمَۃً وَّ لَا شَیْئًا اِلَّا بَغْلَتَہُ الْبَیْضَآئَ وَ سِلَاحَہٗ وَ اَرْضًا جَعَلَھَا صَدَقَۃً ۔ ([7] ) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑ انہ در ہم نہ غلام نہ لونڈی نہ کچھ اور مگر اپنا سفید خچر اور اپنا ہتھیار اور کچھ زمین جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صدقہ وو قف بنا دیا۔  (بخاری،  کتاب الو صایا)

         ابو داود میں حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی روایت اس طرح ہے: مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دِیْنَارًا وَّ لَا دِرْھَمًا وَّ لَا بَعِیْرًا وَّلَا شَاۃً  ([8] ) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ کوئی دینا ر چھوڑ ا نہ در ہم نہ اونٹ نہ بکری۔

             روایات مذکورہ بالا سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے متروکا ت میں ایک سفید خچر  (دُلدُل )  کچھ ہتھیار اور زمین  ( خیبر وفِدَک)  تھی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ار شاد مبارک کے مطابق ان میں سے کسی میں قاعدۂ اِرث ([9]) جاری نہیں ہوا۔ اسی واسطے دُلدُ ل اور ذُوالفقار دونوں حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے پاس تھے۔ ورنہ بجا ئے علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے حضرت عباس وفاطمہ زہرا اور از واج مطہرات حقدار تھیں ۔ اَموالِ بنو نَضِیر وغیرہ پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قبضہ مالکانہ نہ تھا بلکہ مُتَوَلِّیَانَہ تھا۔ابو داؤد میں مالک بن اوس کی روایت میں حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاں تین صفایا تھیں ۔ ([10] )  ایک اموال بنونضیر،  دوسرے خیبر،  تیسرے فدک۔ اموال بنو نضیر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوادث وحوائج ([11] ) کے لئے محبوس وموقوف تھے۔ فدک مسافروں کے لئے مخصوص تھا۔خیبر کی آمد نی کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]  مشکوٰۃ شریف بحوالہ صحیحین، باب وفات النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ، باب ہجرۃ  اصحابہ۔۔۔الخ،الحدیث:۵۹۶۶،ج۲،ص۴۰۴۔ علمیہ)

[2]    مشکوٰۃ شریف، باب الانفاق و کراہیۃ الامساک ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق وکراہیۃ الامساک، الحدیث:۱۸۸۴،ج۱،ص۳۵۸۔ علمیہ)

[3]     ابن ماجہ، ابواب الوصایا۔

[4]     سنن ابن ماجہ،کتاب الوصایا،باب ہل اوصی رسول اللّٰہ،الحدیث:۲۶۹۷،ج۳،ص۳۰۲۔ علمیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن