30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پشت پر سے چڑھ گئے۔ اس وقت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اوجب طلحۃ (یعنی حضرت طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ کام کیا کہ جس سے وہ بہشت کے مستحق ہو گئے۔) اس روز زخموں کی وجہ سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز ظہر بیٹھ کر ادا کی اور مقتدیوں نے بھی بیٹھ کر پڑھی۔ ([1] )
جب ابو سفیان نے میدان سے واپس ہونے کا ار ادہ کیا تو سامنے کی ایک پہاڑ ی پرچڑھ کر پکارا: کیا تم میں محمد ہیں ؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کا جواب نہ دو۔ وہ پھر پکار ا: کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اس کا جواب نہ دو۔ اس نے پھر پکار کر کہا: کیا تم میں ابن خطاب ہے؟ جب جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ یہ سب مارے گئے کیونکہ اگر زندہ ہو تے تو ضرور جواب دیتے۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رہا نہ گیا بول اٹھے: ’’ اود شمن خدا! تو نے جھوٹ کہا، وہ سب زندہ ہیں ۔ اللّٰہ نے تیرے واسطے وہ باقی رکھا ہے جو تجھے غمگین کر ے گا۔ (فتح کے دن) ابو سفیان بولا:
’’ اُعْلُ ھُبل ‘‘ اے ہبل! تو اُو نچارہ۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حسب ار شاد حضور جواب دیا :
’’ اَ للّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ ‘‘ اللّٰہ اونچا اور بڑا ہے ۔
ابو سفیان نے کہا :
’’ لَنَا الْعُزّٰی وَ لَا عُزّٰی لَکُمْ ‘‘ ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس عزیٰ نہیں
صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حسب ار شاد نبوی جواب دیا :
’’ اَ للّٰہُ مَوْلَانَا ولَا مَوْلٰی لَکُمْ ‘‘ اللّٰہ ہمارا ناصر ومد د گار ہے اور تمہارا کوئی ناصر نہیں ۔
ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بَدْر کے دن کا جواب ہے۔ لڑائی میں کبھی جیت کبھی ہار ہوتی ہے۔ تم اپنی قوم میں ناک کان کٹے پاؤ گے۔ میں نے اپنی فوج کو یہ حکم نہیں دیامگر اس پر کچھ رنج بھی نہیں ہوا۔ ([2] ) اس کے بعد ابو سفیان یہ کہہ کر واپس ہواکہ ہمارا اور تمہارا مقابلہ آیندہ سال مقام بَدْر میں ہو گا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمادیا کہ کہہ دیجئے: ہاں ! بَدْر ہمارا اور تمہارا مَوْعِدہے۔ ([3] ) اس طرح جب مشرکین مکہ کو لوٹے توصحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو خدشہ ہو اکہ مبادا ([4] ) وہ مدینہ کا قصد کریں اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو در یافت حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ اگر وہ اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑوں کو پہلو میں خالی لئے جارہے ہوں تو سمجھنا کہ وہ مکہ کو جاتے ہیں اگر اس کا عکس کریں تو مدینہ کا قصد رکھتے ہیں ۔ حضرت مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خبر لائے کہ وہ اونٹوں پر سوار گھوڑوں کو خالی لے جارہے ہیں اور مکہ کی طرف متوجہ ہیں ۔ ([5] )
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ (آل عمران، ع۱۶) ([6] )
مشرکین کے اسی فرار کی طرف اشارہ ہے جیساکہ پہلے آچکا ہے۔
خواتین اسلام نے بھی اس غزوہ میں حصہ لیا چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ اور ام سُلَیم (والدۂ انس) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم پائینچے چڑھا ئے ہوئے کہ جس سے ان کے پاؤں کی جھانجھیں ([7] ) نظرآتی تھیں ، مشکیں بھر بھرکر لاتی تھیں اور مسلمانوں کو پانی پلا تی تھیں ۔ جب مشکیں خالی ہوجاتیں تو پھر بھر لاتیں اور پلا تیں ۔ حضرت اُم سَلِیط (والدۂ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) بھی یہی خدمت بجالا رہی تھیں ۔ حضرت ام اَیمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا (رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دایہ ) اور حَمنَہ بنت جحش (ام المؤمنین زینب کی بہن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما ) پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مر ہم پٹی کر تی تھیں ۔ حضرت ام عَمَّارہ نَسِیْبَہ بنت کعَب انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا (زوجہ زید بن عاصم انصاری مازنی ) اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کے ساتھ مشک لے کر نکلیں ۔ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ صرف چند جانباز رہ گئے تو یہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پہنچیں اور تیر اور تلوارسے کا فر وں کو رو کتی رہیں ۔ جب ابن قَمِئَہ لعین، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف بڑھاتوحضرت مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور چند اور مسلمان مقابل ہوئے۔ ان میں ام عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں ۔ ابن قَمِئَہ نے ان کے کندھے پر ایسی ضرب لگائی کہ غارپڑ گیا۔ ام عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بھی کئی وار کیے مگر وہ دشمن خدا دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے کار گر نہ ہوئے۔ حضرت صَفْیَہ (حضرت امیر حمزہ کی بہن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) مسلمانوں کی شکست پر اُحُد میں نیز ہ ہاتھ میں لئے آئیں اور بھاگنے والوں کے منہ پر مار کر کہتی تھیں کہ تم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چھوڑ کر بھاگتے ہو۔ پھر بھائی کی لاش دیکھ کر بڑے استقلال سے ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ پڑھا اور دعائے مغفرت کی۔
جب مشرکین میدان کا رزار سے چلے گئے تو مدینہ کی عور تیں صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مدد کو نکلیں ۔ ان میں حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں ۔ جب حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو خوشی کے مارے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گلے لپٹ گئیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زخموں کو دھونے لگیں ۔ حضرت
[1] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،غزوۃ اُحد،ص۳۳۴ملتقطاً۔ علمیہ
[2] صحیح بخاری، غزوۂ احد۔
[3] یعنی ہاں ! بدر میں ہمارا اور تمہارا مقابلہ ہوگا۔
[4] کہیں ایسا نہ ہو۔
[5] صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ اُحد،الحدیث:۴۰۴۳،ج۳،ص۳۴ والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، غزوۃ اُحد،ج۲،ص۴۴۴۔ علمیہ
[6] ترجمۂکنز الایمان:کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ (پ۴،اٰٰل عمران:۱۵۱) علمیہ
[7] پاؤں کا ایک زیور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع