30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا۔ اس لئے آپ نے اس دَرَّے پر اپنے پچاس پیدل تیراَنداز مقرر کیے اور حضرت عبداللّٰہ بن جُبَیر کو ان کا سردار بنا یا اور یوں ہدایت کی: ’’ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہم کو اُچک لے گئے ہیں تو اپنی جگہ کو نہ چھوڑ و یہاں تک کہ میں تمہارے پاس کسی کو بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی ہے اور مار کر پامال کر دیا ہے تو بھی ایسا ہی کر نا۔ ‘‘ ([1])
مشرکین نے بھی جو عینَین میں وادیٔ قنات کے مدینہ کی طرف کے کنارے پر شور ستان میں اتر ے ہو ئے تھے، صفیں آراستہ کیں چنانچہ انہوں نے سواروں کے مَیْمَنہ پر خالد بن وَلید کو، مَیْسَرہ پر عِکرَمہ بن ابی جہل کو، پیدلوں پر صفوان بن اُمَیَّہ کو اور تیر اندازوں پر جو تعداد میں ایک سو تھے، عبداللّٰہ بن ابی رَبیعہ کو مقرر کیا اور جھنڈ اطلحہ بن ابی طلحہ کو دیا۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھاکہ مشرکین کا جھنڈا بنو عبد الدار کے پاس ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لشکر اسلام کا جھنڈا حضرت مُصْعَب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدالدار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیا اور میمنہ پر حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور میسرہ پر حضرت منذر بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مقرر فرمایا۔
مشرکین میں سب سے پہلے جو لڑائی کے لئے نکلاوہ ابو عامر انصاری اَوسی تھا۔ اس کو راہب کہا کر تے تھے مگر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا نام فاسق رکھا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ قبیلۂ اَوس کا سر دار تھا۔جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرماکر مدینہ میں تشریف لے گئے تو وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت کر نے لگا اور مدینہ سے نکل کر مکہ میں چلا آیا۔ اس نے قریش کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے لڑنے پر آمادہ کیا اور کہا کہ میری قوم جب مجھے دیکھے گی تو میرے ساتھ ہو جائے گی۔ اس لئے اس نے پکار کر کہا: ’’ اے گروہِ اَوس! میں ابو عامر ہوں ۔ ‘‘ اوس نے جواب دیا: ’’ اے فاسق! تیری مراد پوری نہ ہو۔ ‘‘ فاسق کا نام سن کر کہنے لگاکہ میری قوم میرے بعد بگڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ غلامان قریش کی ایک جماعت تھی وہ مسلمانوں پر تیر پھینکنے لگے۔ مسلمان بھی ان پر سنگباری کر نے لگے یہاں تک کہ ابو عامر اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ ([2])
مشرکین کا علم بر دار طلحہ صف سے نکل کر پکارا: ’’ مسلمانو! تم سمجھتے ہو کہ ہم میں سے جو تمہارے ہاتھوں مر جاتا ہے وہ جلددوزخ میں پہنچ جا تا ہے اور تم میں جو ہمارے ہاتھوں مرجاتا ہے وہ جلد بہشت میں پہنچ جا تا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جس کو میں جلد بہشت میں پہنچا دوں یا وہ مجھے جلد دوزخ میں پہنچا دے۔ ‘‘ حضرت علی ابن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نکلے اور طلحہ کے سر پرایسی تلوارماری کہ کھوپڑی پھاڑ دی اور وہ گر پڑا۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کَبْشالْکَتِیبَہ کے مارے جانے پر خوش ہوئے آپ نے تکبیر کہی۔ مسلمانوں نے بھی آپ کا اقتداء کیا۔ طلحہ کے بعد اس کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیا۔ اس کے پیچھے عورتیں اشعار پڑھتی آتی تھیں اور وہ ان کے آگے یہرجز پڑھتا تھا :
اِنَّ عَلٰی اَھْلِ اللِّوَآئِ حَقَّا اَنْ تُخْضَبَ الصَّعْدَۃُ اَوْ تَنْدَقًا
بیشک علم برداروں پر واجب ہے کہ نیزہ خون سے سر خ ہو جائے یا ٹوٹ جائے۔
حضرت حمزہ بن عبد المُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مقابلے کے لئے نکلے اور عثمان کے دو شانوں کے درمیان اس زور سے تلوار ماری کہ ایک بازو اور شانے کوکاٹ کر سرین تک جاپہنچی۔ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ واپس آئے اور زبان پر یہ الفاظ تھے : اَنَا ابْنُ سَاقِی الحَجِیْج۔ ([3]) میں ساقی حجاج ([4]) (عبدالمُطَّلِب ) کا بیٹا ہوں ۔
اب میدان کارزار گرم ہوا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک میں ایک تلوار تھی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کر ے۔ یہ سن کر کئی شخص آپ کی طرف بڑھے مگر آپ نے وہ تلوار کسی کو نہ دی۔ ابو دُجانہ (سِمَاک بن خَرَشہ انصاری ) نے اٹھ کر عرض کیا: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کا حق کیا ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ تو اس کو دشمن پر مارے یہاں تک کہ ٹیڑھی ہوجائے۔ ابودُجانہ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابو دُجانہ کو عنایت فرمائی۔ ابو دُجانہ مشہور پہلوان تھے اور لڑائی میں اَکڑ کر چلا کر تے تھے۔ جب سر خ رومال سر پر باندھ لیتے تو لوگ سمجھ جا تے تھے کہ لڑیں گے۔ انہوں نے تلوار لے کر حسب عادت سر پر سرخ رومال باندھا اور اَکڑتے تَنتے نکلے یہ دیکھ کر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ’’ یہ چال خدا عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے۔ ‘‘ ([5]) حضرت ابو دُجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صفوں کو چیرتے اور لاشوں پر لاشیں گراتے دامن کو ہ ([6]) میں مشرکین کی عورتوں تک جا پہنچے جو بغرضِ ترغیب دف پر اشعار ذیل گا رہی تھیں : ؎
نحن بنات طارق نمشی علی النمارق
ان تقبلوا نعانق او تدبروا نفارق
ہم (علووشرف میں ) پروین ستارے ہیں ۔ ہم قالینوں پر چلنے والیاں ہیں اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گی پیچھے ہٹو گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی۔
حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تلوار اٹھا ئی کہ ہند بنت عتبہ کے سر پر ماریں پھر بدیں خیال رک گئے کہ یہ سزاوار نہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلوار ایک عورت پر ماری جائے۔ ([7])
حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرح حضرت حمزہ و حضرت علی وغیرہ بھی دشمنوں میں جا گھسے اور صفوں کی صفیں صاف کردیں ۔ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو آخر کار وَحْشی نے جو
[1] صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب ما یکرہ من التنازع والاختلاف فی الحرب۔ (صحیح البخاری،کتاب الجہاد،باب مایکرہ من التنازع۔۔۔الخ،الحدیث:۳۰۳۹،ج۲،ص۳۲۰۔ علمیہ)
[2] الطبقات الکبری لابن سعد،غزوۃ رسول اللّٰہ اُحداً،ج۲،ص۳۰ملخصاً والسیرۃ النبویۃ لابن ہشام،غزوۃ اُحد،ص۳۲۶۔ علمیہ
[3] الکامل فی التاریخ لابن اثیر،ذکرغزوۃ اُحد،ج۲،ص۴۷ملخصاً والطبقات الکبری لابن سعد،غزوۃ رسول اللّٰہ اُحداً، ج۲،ص۳۱۔ علمیہ
[4] حاجیوں کو پانی پلانے والا۔
[5] المعجم الکبیر للطبرانیاور دیگرکتب میں ، اس روایت میں مزید الفاظ یوں ہیں : ’’ الا فی ہذا الموضع ‘‘ (یعنی) اس مقام کے سوا۔علمیہ
[6] پہاڑ کا دامن۔
[7] الکامل فی التاریخ لابن اثیر،ذکرغزوۃ اُحد،ج۲،ص۴۷۔۴۸ و المعجم الکبیرللطبرانی،۶۵۲۔من اسمہ سماک، الحدیث:۶۵۰۸،ج۷،ص۱۰۴۔ علمیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع