30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعد ابوسفیان نے قسم کھائی تھی کہ جب تک
میں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے لڑائی نہ کرلوں جنابت سے سر نہ دھوؤں گا۔ اس لئے قسم کے پورا کرنے کے لئے وہ دو سو سوار لے کر نکلا۔ مقامِ عَرِیض میں اس نے ایک نخلستان کو جلادیااور ایک انصاری کو قتل کر ڈالا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تعاقب فرمایا۔ ابو سفیان اور اس کے ہمراہی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ستو کے بورے پھینک کر بھاگ گئے۔ جنہیں مسلمانوں نے اٹھالیااور واپس چلے آئے۔ ([1])
فرمان مصطفی صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلَّم: ’’ جو شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی مصبیت میں تعزیت کرتا (یعنی تسلی دیتا) ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بروز قیامت اسے عزت کا لباس پہنائے گا۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب، ج۴، ص۳۴۴)
نصف محرم کو ’’ غزوۂ قَرْقَرَۃُ الْکُدْر ‘‘ اور رَبیع الاوَّل میں غزوۂ اَنمار یا غَطَفَان اور جُمَادَی الا ُولیٰ میں غزوۂ بنی سُلَیم وُقوع میں آیا۔ ان میں سے کسی میں مقابلہ نہیں ہوا۔ غزوۂ اَنمار میں دُعْثُوْرغَطَفَانی اسلام لایا۔ ماہ ربیع الاوَّل میں کعب بن اشرف یہودی شاعر جو اسلام کی ہَجوکیا کرتا تھا حضرت محمد بن مَسلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ ماہ ِجُمَادَی الاخریٰ میں ابو رافع سلاَّم بن ابی الحُقَیق یہودی جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت دیا کرتا تھا حضرت عبد اللّٰہ بن عَتِیک اَنصاری خَزْرَجی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ ([2])
غزوۂ احد
ماہِ شوال میں غزوۂ اُحُد ([3]) وقوع میں آیا۔ جب قریش بَدْر میں شِکَسْتِ فاش کھا کر مکہ میں آئے تو ابو سفیان کے قافلے کا تمام مال دار ا لنَدْوَہ میں رکھا ہوا پایا۔ عبداللّٰہ بن اُبی رَبیعہ اور عِکْرَمَہ بن اَبی جہل اور صفوان بن اُمَیَّہ وغیرہ روسائے قریش جن کے باپ بھائی اور بیٹے جنگ بَدْر میں قتل ہوئے تھے، ابو سفیان اور دیگر شرکاء کے پاس آکر کہنے لگے کہ اپنے مال کے نفع سے مدد کرو تاکہ ہم ایک لشکر تیار کریں اور (حضرت) محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے بدلہ لیں ۔ سب نے بخوشی منظور کیا چنانچہ تمام مال فروخت کردیا گیااور حسب قَرا رْدَاد ْ رَأس المال ([4]) مالکوں کو دیا گیااور نفع تجہیز لشکر ([5]) میں کام آیا۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ (۳۶)
(انفال: ع۴)
جو لوگ کافر ہیں خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں اللّٰہ کی راہ سے سوا بھی اور خرچ کریں گے پھر آخر ہوگا ان پر پچھتاؤ پھر آخر مغلوب ہوں گے اور جو کافر ہیں دوزخ کو ہانکے جائیں گے۔ ([6])
قریش نے بڑی سرگرمی سے تیاری کی اور قبائل عرب کو بھی دعوت جنگ دی۔ مردوں کے ساتھ عورتوں کی ایک جماعت بھی شامل ہوئی تاکہ ان کو مقتولین بَدْر کی یاد دلا کر لڑائی پر ابھارتی رہیں چنانچہ ابو سفیان کی زوجہ ہند بنت عُتْبہ، عِکرَمہ بن ابو جہل کی زوجہ اُم حَکِیم بنت حارِث بن ہِشام، حارث بن ہِشام بن مُغَیرہ کی زوجہ فاطمہ بنت وَلید بن مُغیرہ، صفوان بن اُمَیَّہ کی زوجہ بَرزَہ بنت مسعود ثَقَفِیَہ، عَمروبن عاص کی زوجہ ریطہ بنت منبہ سہمیہ، ([7]) طلحہ حَجَبِی کی زوجہ سُلافہ بنت سعد اپنے اپنے شوہروں سمیت نکلیں ۔ اسی طرح خناس بنت مالک اپنے بیٹے ابو عزیز بن عمیر کے ساتھ نکلی۔ کل جمعیت تین ہزار تھی جن میں سات سو زِرَہ پوش تھے ان کے ساتھ دو سو گھوڑے تین ہزار اونٹ اور پندرہ عورتیں تھیں ۔ جُبَیر بن مُطْعِم نے اپنے حبشی غلام وحشی نام کو بھی یہ کہہ کر بھیج دیا کہ اگر تم محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے چچا حمزہ کو میرے چچا طُعَیْمَہ بن عدی کے بدلے قتل کردو تو میں تم کو آزاد کردوں گا۔
یہ لشکر ِقریش بسر کردگی ابو سفیان ([8]) مدینہ کی طرف روانہ ہوا، اور مدینہ کے مقابل احد کی طرف بطن وادی میں اترا۔ حضرت عباس بن عبدالمُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواَب تک مکہ میں تھے بذریعہ خط آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قریش کی تیاری کی خبر دی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت انس ومونس پسر انِ فضالہ بن عدی انصاری کو بطور جاسوس بھیجا۔ وہ خبر لائے اور کہنے لگے کہ مشرکین نے اپنے اونٹ اور گھوڑے عَرِیض ([9]) میں چھوڑ دیئے ہیں جنہوں نے چرا گاہ میں سبزی کا نام و نشان نہیں چھوڑا پھر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت حُباب بن مُنْذِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی بغرضِ تجسس بھیجا وہ لشکر کی تعداد وغیرہ کی خبر لائے۔ جمعہ کی رات (۱۴ شوال) کو حضرت سعد بن معاذ اور اُسید بن حُضَیر اور سعد بن عُبَادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایک جماعت کے ساتھ مسلح ہو کر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دولت خانے پر پہرہ دیتے رہے اور شہر پر بھی پہرہ لگا رہا۔ اسی رات حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواب میں دیکھا کہ گویا آپ مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہیں ، آپ کی تلوار ’’ذوالفقار ‘‘ ایک طرف سے ٹوٹ گئی ہے، ایک گائے پر نظر پڑی جو ذبح کی جارہی ہے اور آپ کے پیچھے ایک مینڈھا سوار ہے۔ صبح کو آپ نے یہ تعبیر بیان فرمائی
[1] الکامل فی التاریخ لابن اثیر،ذکرغزوۃ السویق،ج۲،ص۳۶ملخصاً و الکامل فی التاریخ لابن اثیر،ودخلت السنۃ الثالۃ۔۔۔الخ،ج۲،ص۳۸-۴۲ و المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، غزوۃ بنی سلیم۔۔۔الخ،ج۲،ص۳۴۴-۳۴۵ و غزوۃ غطفان، ۳۷۸-۳۸۱ملخصاً۔ علمیہ
[2] اس قتل کے سنہ وماہ میں یہ مختلف اقوال ہیں : رمضان ۶ھ ، ذوالحجہ ۵ھ، ذوالحجہ ۴ھ، جمادی الاخری ۳ھ، رجب ۳ھ۔۱۲منہ
[3] اُحد ایک پہاڑ کانام ہے جو مدینہ منورہ سے قریباً تین میل پر ہے۔۱۲منہ
[4] اصل زر۔
[5] لشکر کے ساز و سامان۔
[6] ترجمۂکنز الایمان:بے شک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللّٰہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیئے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔(پ۹،الانفال:۳۶) علمیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع