دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Rasool e Arabi صلی اللہ تعالی علیہ وسلم | سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

book_icon
سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

جہل اور نزدیک آتا تو اسے پکڑ لیتے۔ ‘‘  ([1]) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ نابکار کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہو ئے تھے اور رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑ ھ رہے تھے۔عقبہ بن ابی معیط نے آپ کی گردن مبارک میں چادر ڈال لی پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل گر پڑے۔لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ کا انتقال ہوگیا،  حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ دوڑے آئے اور فرمانے لگے:  ([2])  ’’ کیا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کر تے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پر وردگار اللّٰہ ہے۔ ‘‘   ([3]) یہ سن کر وہ ہٹ گئے۔

            یہ اذیتیں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک محدودنہ تھیں بلکہ آپ کے اصحاب بھی طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا تھے۔ وہ غریب مسلمان جن کا مکہ میں کوئی قبیلہ اور یارویاور  ([4]) نہ تھاخصوصیت سے قریش کا تختہ مشق  ([5]) بنے ہوئے تھے۔ اذیتیں مختلف انواع کی تھیں مثلاً آگ پر لٹا دینا،  تپتی ریت پر لٹا کر بھاری پتھر سینہ پر رکھ دینا تا کہ کروٹ نہ لے سکے،  چابک سے اس قدر مارنا کہ ٹوٹ جائے،  چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں دینا،  جکڑ کر کو ٹھٹری میں بند کر دینا،  پاؤں میں رسی باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹنا،  گلااس قدر گھونٹنا کہ دم نکل جانے کا گمان ہو جائے،  زدوکوب  ([6]) سے بیہوش و مختل الحواس  ([7]) کردینا،  نیزہ مار کر ہلاک کر دینا وغیرہ۔

۵   نبوت

            جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا کہ مسلمانوں کا مکہ میں رہنا مشکل ہو گیا ہے تو آپ نے اصحاب سے فرمایاکہ ملک حبشہ کا بادشاہ اپنے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہو نے دیتا،  تم میں سے جو چاہیں وہاں چلے جائیں ۔ چنانچہ اس سال ماہ رجب میں اَوَّل اَوَّل گیا رہ مر داور چار عورتوں نے ہجرت کی،  جن میں حضرت عثمان غنی اور ان کی زَوجہ محترمہ رُقَیَّہ بنت رسول اللّٰہ بھی تھیں ۔ حسن اتفاق سے جب یہ بندرگاہ پر پہنچے تو دو تجارتی جہاز حبشہ کو جارہے تھے،  جہاز والوں نے ان کو سستے کرایہ پر بٹھا لیا۔ قریش کو خبر لگی تو انہوں نے بندرگاہ تک تعاقب کیامگر مو قعہ نکل چکا تھا۔  ([8])

            مہاجرین قریباً تین ماہ حبشہ میں امن وامان سے رہے۔ماہِ شوال میں ان کو یہ غلط خبر پہنچی کہ اہل مکہ ایمان لے آئے ہیں اس لئے ان میں سے اکثر مکہ میں واپس آگئے۔

۶   نبوت

            اس سال آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا امیر حمزہ ایمان لائے اور ان کے تین دن بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی مشرف باسلام ہو ئے۔ جو لوگ حبشہ سے واپس آئے تھے قریش نے ان کو اور دوسرے مسلمانوں کو زیادہ ستا نا شروع کیایہاں تک کہ ہجرت پر مجبور ہو ئے۔ چنانچہ اس دفعہ ۸۳مرداور ۱۸ عورتیں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اجازت سے ہجرت کر کے حبشہ چلی گئیں ۔  ([9])

            جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی تو مہاجرین حبشہ میں سے کچھ لوگ فوراً واپس آگئے۔حضرت جعفربن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ جو وہاں رہ گئے تھے وہ فتح خیبر کے وقت مدینہ میں واپس آئے۔جب حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو ئے تو حضور نے ان سے معانقہ کیا اور پیشانی کو بو سہ دے کر فرمایا:  ([10])   ’’ میں نہیں بتاسکتا کہ فتح خیبر سے مجھے زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے آنے سے۔ ‘‘

            حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی بار ادۂ ہجرت حبشہ کی طرف نکلے تھے۔ برک الغِماد تک جو مکہ سے یَمَن کی طرف پانچ دن کی راہ ہے،  یہ پہنچے تھے کہ قبیلہ قارَّہ کا سر دار ابن الدغنہ ملا،  اس نے پوچھا: کہاں جارہے ہو ؟  آپ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا،  میں چاہتا ہوں کہ کہیں الگ جاکر خدا کی عبادت کروں ۔ ابن الدغنہ نے کہا : یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ سافیاض ومہمان نواز،  اپنوں سے نیک سلوک کر نے والا،  غریب پر ور اور حوادث حق میں لوگوں کا مدد گار مکہ سے نکل جائے یا نکالا جائے،  میں آپ کو اپنی پنا ہ میں لیتا ہوں ۔اس لئے آپ ابن الدغنہ کے ساتھ مکہ میں واپس آگئے۔  ([11])

            جب قریش کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے مشور ہ کر کے ایک سفارت بسر کر دگی عمرو بن العاص اور عبد اللّٰہ بن ابی ربیعہ  (یا عمارہ بن ولید )  نجاشی کی خدمت میں مع تحائف بھیجی۔سُفرَ اء ([12])  وہاں پہنچ کر پہلے بادشاہ کے بطارِقہ  ([13]) سے ملے اور نذریں پیش کرکے کہاکہ ہم میں چند نا دان لونڈوں نے ایک نیاد ین ایجاد کیا ہے جو نصر انیت وبت پر ستی دونوں سے جدا ہے،  وہ بھاگ کر یہاں پنا ہ گز ین ہو گئے ہیں ہمیں اشراف قریش نے آپ کے بادشاہ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کو واپس کردے درخواست پیش ہونے پر آپ ہماری تائیدکردیں ۔ چنانچہ سُفَراء نے نجاشی کی خدمت میں حاضرہوکرتحائف پیش کیے اور سارا



[1]     السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ما دار بین رسول اللّٰہ۔۔۔الخ،ص۱۱۷ملتقطاً۔ علمیہ

[2]     صحیح بخاری ، مناقب ابوبکر۔

[3]     صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب قول النبی۔۔۔الخ، الحدیث:۳۶۷۸،ج۲،ص۵۲۴۔ علمیہ

[4]     دوست و مددگار۔     

[5]     ظلم و ستم کا نشانہ۔

[6]     مار پیٹ۔

[7]     حواس باختہ،جس کے حواس جاتے رہیں ۔

[8]     المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الہجرۃ الاولی الی الحبشۃ،ج۱،ص۵۰۳    والطبقات الکبری،ذکرہجرۃ من ہاجر۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۵۹۔ علمیہ

[9]     المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،اسلام الفاروق،ج۲،ص۳والہجرۃ الثانیۃ۔۔۔الخ،ج۲،ص۳۱ملخصاً ۔ علمیہ

[10]     مشکوٰۃ شریف بحوالہ شرح السنہ، باب المصافحۃ والمعانقۃ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ،

 الحدیث: ۴۶۸۶۔۴۶۸۷،ج۲،ص۱۷۰۔۱۷۱ملتقطاً۔ علمیہ)

[11]     تفصیل کے لئے دیکھو صحیح بخاری ،باب ہجرت مدینہ۔۱۲منہ (صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب ہجرۃ النبی و

اصحابہ الی المدینۃ، الحدیث:۳۹۰۵،ج۲، ص۵۹۱ملخصاً۔  علمیہ)

[12]     سفیر کی جمع۔

[13]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن