دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Rasool e Arabi صلی اللہ تعالی علیہ وسلم | سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

book_icon
سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

{39}  حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو دیکھا گیا کہ منبر منیف میں جو جگہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بیٹھنے کی تھی اسے ہاتھ سے مس کیاپھر اس ہاتھ کو اپنے منہ پر مل لیا۔ ([1] )   (شفاء شریف وطبقات ابن سعد)

 {40}  یحییٰ بن سعید جو امام مالک کے استاد تھے جب عراق کو جاتے تو منبر شریف کے پاس آکر اسے مس کرتے اور دعا مانگتے۔ ([2] )   (وفاء الوفاء،  جزء ثانی،  ص۴۴۲)

 {41}  مسجد نبوی میں پہلی آتشزدگی یکم رمضان ۶۵۴ ھ میں ہوئی،  اس میں منبر نبوی کا بقایا بھی جل گیا چنانچہ ابو الیمن بن عساکِر جو آتشزدگی کے وقت زندہ تھے ’’ تحفۃ الزائر ‘‘  میں یوں لکھتے ہیں :

             ’’ منبر نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بقایا جل گیا۔اس منبر کے رمانہ کو جس پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھنے کے وقت اپنا دست مبارک رکھا کرتے تھے، زائرین مس کیا کرتے تھے اور دو خطبوں کے درمیان اورپیشتر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر کی جس جگہ پر بیٹھا کرتے تھے اس جگہ کو اور منبر پر رونق افروز ہونے کے وقت جس جگہ پر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دو قدم ہوا کرتے تھے اس جگہ کو بھی زائرین مس کیا کرتے تھے۔ اب آتشزدگی سے وہ اس برکت عامہ و نفع عائد سے محروم ہوگئے۔ ([3] )   (وفاء الوفاء، جزء اول، ص۲۸۰)

 {42}  حضرت اَسعد بن زِرارَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے لئے ایک چارپائی بطور ہدیہ پیش کی تھی جس کے پائے ساگوان ([4] ) کی لکڑی کے تھے۔حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  اس پر سویا کرتے تھے۔ جب وفات شریف ہوئی تو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اسی پر رکھا گیا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بعد حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ    کو بھی وفات پانے پر اسی پر رکھا گیا۔ بعد ازاں عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کوبھی اسی پر رکھا گیا۔ پھر لوگ بطور تبرک اپنے مردوں کو اسی پر رکھا کرتے تھے۔یہ چارپائی بنو اُمَیَّہ کے عہد میں میراث عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا میں فروخت ہوئی۔ عبد اللّٰہ بن اسحاق نے اسکے تختوں کو چار ہزار درہموں میں خرید لیا۔ ([5] )   (زرقانی علی المواہب بحوالہ ابن عماد،  جزء ثالث،  ص۳۸۲)

 {43}  روایت ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متروکات میں سے بعض چیزیں حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھیں ۔وہ ایک کمرے میں محفوظ تھیں ۔ ابن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر روز ایک بار ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔ اَشراف میں سے اگر کوئی ان سے ملنے آتا تو اس کو بھی ان کی زیارت کرایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس کمرے میں ایک چارپائی،  چمڑے کا تکیہ جس میں خرما کی چھال بھری ہوئی تھی،  ایک ایک جوڑا موزہ،  قطیفہ  (لحاف) ،  چکی اور ترکش تھی جس میں چند تیر تھے۔ لحاف میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک کے میل کا اثر ([6] )  تھا۔ ایک شخص کو سخت بیماری لاحق تھی جس سے شفاء نہ ہوتی تھی۔ابن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اجازت سے اس میل میں سے کچھ دھو کر بیمار کی ناک میں ٹپکا دیا گیا وہ چنگا ([7] )  ہوگیا۔ ([8] )  (مدارج النبوت،  جزء ثانی،  ص ۶۰۸)

 {44}  دلائل اَبی نُعَیم میں ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے سخت پتھر ایسے نرم ہوگئے کہ غار بن گئے۔ چنانچہ احد کے دن حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک پہاڑ کی طرف مائل کیاتاکہ مشرکین سے اپنا جسم مبارک چھپائیں ۔ پس اللّٰہ تعالٰی نے پتھر کو ایسا نرم کیا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا سر مبارک اس میں داخل کردیا۔ وہ پتھر اب تک باقی ہے اور لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں ۔اسی طرح مکہ مشرفہ کے ایک دَرَّہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز میں ایک سخت پتھر سے قرار پکڑا وہ ایسا نرم ہوگیا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دو بازوئے مبارک نے اس میں اثر کیا وہ پتھر مشہور ہے جو لوگ حج کرنے کو جاتے ہیں اس کی زیارت کرتے ہیں ۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے لئے شب معراج میں صخرائے بیت المقدس ([9] )  خمیر کی مانند ہوگیا۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے اپنا براق باندھا۔لوگ آج تک اسے اپنے ہاتھ سے چھوتے ہیں ۔ ([10] )  (دلائل النبوۃ للحافظ ابی نعیم الاصبہانی المتوفی ۴۳۰ھ، ص۳۱۵)

 {45}  عبد الرحمن بن زید عراقی کا بیان ہے کہ ہم ربذہ میں  ([11] ) حضرت سلمہ بن اَکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھایا جو ایسا ضخیم تھا کہ گویا اونٹ کا سم تھااور فرمایا کہ میں نے اس ہاتھ سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بیعت کی ہے،  پس ہم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیا۔ ([12] )   (طبقات ابن سعد،  جزء رابع،  قسم ثانی،  ص۳۹)

 {46}  اسماعیل بن یعقوب تیمی روایت کرتے ہیں کہ ابن منکدر  (متوفی ۲۰۵ھ )  مسجد نبوی کے صحن میں ایک خاص جگہ پر لَوٹتے اور لیٹتے۔ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا



[1]     الشفاء،الباب الثالث،فصل:ومن اعظامہ واکبارہ ۔۔۔الخ، ج۲،ص۵۷۔علمیہ

[2]     وفاء الوفاء،الباب الثامن فی زیارۃ النبی۔۔۔الخ،الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ۔۔۔الخ،ما یلزم من الزائرمن الادب۔۔۔الخ، ج۲، الجز۴، ص۱۴۰۳۔علمیہ

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن