30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شیطان کا حصہ ہے) پھر اسے ایمان وحکمت سے بھر کر سِی دیا۔پس ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے خیمہ میں لے آئے۔میرے خاوند نے کہا: حلیمہ ! مجھے ڈرہے اس لڑ کے کو کچھ آسیب ہے، آسیب ظاہر ہونے سے پہلے اسے اس کے کنبے میں چھوڑ آ۔میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ کی والدہ کے پاس لا ئی اور بڑے اِصرار کے بعد اس سے حقیقت حال بیان کی۔ماں نے کہا : اللّٰہکی قسم! ان پر شیطان کودخل نہیں ، میرے بیٹے کی بڑی شان ہے۔ ([1])
واضح رہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا شقِ صَدْر ([2]) چار مر تبہ ہوا ہے، ایک وہ جس کا ذ کر اوپر ہوا، یہ اس واسطے تھا کہ حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وساوسِ شیطان سے جن میں بچے مبتلا ہوا کر تے ہیں محفوظ رہیں اور بچپن ہی سے اَخلاقِ حمیدہ پر پر ورِش پائیں ، دوسری مرتبہ دس برس کی عمر میں ہوا تا کہ آپ کا مل ترین اوصاف پر جوا ن ہوں ، تیسری مرتبہ غارِ حرا میں بعثت کے وقت ہوا تاکہ آپ وحی کے بو جھ کو برداشت کرسکیں ، چو تھی مرتبہ شب ِمعراج میں ہوا تاکہ آپ مناجات الٰہی کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ([3])
حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا کی وفات
حضرت (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی عمر مبارک چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ آپ کو ساتھ لے کر مدینہ میں آپ کے دادا کے ننہال بنو عَدِی بن نجَّار میں ملنے گئیں بعض کہتے ہیں کہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے گئی تھیں ۔ اُم اَیمن بھی ساتھ تھیں ، جب واپس آئیں تو را ستے میں مقام اَبواء میں انتقال فرماگئیں اور وہیں دفن ہوئیں ۔ ([4])
ہجرت کے بعد جب حضرت (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا گزر بنونجارپر ہوا تو ا پنے قیام مدینہ کا نقشہ سامنے آگیا اور اپنے قیام گاہ کو دیکھ کر فرمایا: ’’ اس گھر میں میری والدہ مکر مہ مجھے لے کر ٹھہر ی تھیں میں بنی عَدِی بن نجَّار کے تالاب میں تیر اکر تا تھا۔‘‘ ([5])
عبدالمُطَّلِب و ابو طالب کی کفالت
ام ایمن حضرت (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو مکہ میں لائیں اور آپ کے دادا عبد المُطَّلِب کے حوالہ کیا۔ عبد المُطَّلِب آپ کی پرورش کر تا رہا مگر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر مبارک آٹھ سال کی ہوئی تو اس نے بھی وفات پائی اور حسب وصیت آپ کا چچا ابو طالب جو حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا باپ اور آپ کے والد عبد اللّٰہ کا ماں جا یابھائی تھا، آپ کی تربیت کا کفیل ہوا، ابو طالب نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کفالت کو بہت اچھی طرح انجام دیااور آپ کو اپنی ذات اور بیٹوں پر مُقَدَّم رکھا۔ ([6])
طفولیت میں حضرت کی دعا سے نزول باراں
ایک دفعہ ابو طالب نے حضرت (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو ساتھ لے کر بارش کے لئے دعا کی تھی جو حضور کی برکت سے فوراً قبول ہو ئی تھی۔چنانچہ ابن عساکر جُلْہُمَہ بن عُرْفُطَہ سے ناقل ہے کہ اس نے کہا کہ میں مکہ میں آیا، اَہل مکہ قحط میں مبتلا تھے، ایک بولا کہ لات و عُزّٰی کے پاس چلودوسرابو لا کہ مَنات کے پاس چلو۔یہ سن کر ایک خوبرو جیدالرّائے ([7]) بو ڑھے نے کہا: تم کہاں الٹے جارہے ہو حالانکہ ہمارے درمیان باقِیَۂ ابر اہیم ([8]) و سُلَالَۂ اسماعیل ([9]) موجود ہے۔ وہ بولے: کیاتمہاری مر اد ابو طالب ہے؟ اس نے کہا: ہاں ! پس وہ سب اُٹھے اور میں بھی ساتھ ہو لیا۔جاکر دروازے پر دستک دی ابو طالب نکلاتو کہنے لگے: ’’ ابو طالب! جنگل قحط زدہ ہو گیا، ہمارے زن وفرزند قحط میں مبتلا ہیں ، چل مینہ مانگ۔ ‘‘ پس ابوطالب نکلااس کے ساتھ ایک لڑ کا تھا گو یا آفتاب تھا، جس سے ہلکا سیاہ بادل دور ہوگیا ہو، اس کے گر داور چھوٹے چھوٹے لڑ کے تھے۔ ابو طالب نے اس لڑ کے کو لیا اور اس کی پیٹھ کعبہ سے لگا ئی۔اس لڑ کے (محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے التجاکر نے والے کی طرح اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، حالانکہ اس وقت آسمان پر کوئی بادل کا ٹکڑا نہ تھا، اشارہ کر نا تھا کہ چاروں طرف سے بادل آنے لگے۔ برسا اور خوب بر سا جنگل میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا اور آبادی و وادی سب سرسبز وشاداب ہو گئے اسی بارے میں ابو طالب نے کہاہے:
وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَرَامِلِ
اور گورے رنگ والے جن کی ذات کے وسیلہ سے نزول بار اں طلب کیا جاتا ہے یتیموں کے ملجاوماوی رانڈوں ([10]) اور درویشوں کے نگہبان ۔
بعثت کے بعد جب قریش آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ستا رہے تھے تو ابو طالب نے ایک قصیدہ لکھا تھا جو سیرت ابن ہشام میں دیا ہوا ہے۔شعر مذکوراسی قصیدے میں سے ہے، اس شعر میں ابو طالب قریش پر بچپن سے حضرت کے احسانات جتارہا ہے اور گو یا کہہ رہا ہے کہ ایسے قدیم بابرکت محسن کے دَرْپَئے آزار ([11]) کیوں ہو ؟ ([12]) (مواہب وزر قانی)
[1] المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، ذکر رضاعہ وما معہ،ج۱،ص۲۷۹۔۲۸۲ملخصاً علمیہ۔
[2] سینہ مبارک کا چاک ہونا۔
[3] المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،ذکر رضاعہ وما معہ،ج۱،ص۲۸۸ملخصاً علمیہ۔
[4] المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،ذکروفاۃ امہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۰۸۔۳۰۹ملخصاً علمیہ۔
[5] شرح الزرقانی علی المواہب،باب ذکر وفاۃ امہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۰۹ علمیہ۔
[6] شرح الزرقانی علی المواہب،باب ذکر وفاۃ امہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۰۹ علمیہ۔
[7] اچھی رائے دینے والا۔
[8] حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلام کی آل۔
[9] حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلام کی اولاد۔
[10] بیواؤں ۔
[11] تکلیف یا ضرر پہنچانے کی فکر میں رہنا۔
[12] المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،ذکروفاۃ امہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۵۵۔۳۵۸ملخصاً علمیہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع