30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دجلہ خوں ناب است زیں پس گر نہد سر در نشیب خاکِ نخلستانِ بطحا را کند باخوں عجیں
دریائے دجلہ کا پانی خون ہو گیا ہے۔اگر پستی کی طرف بہے گا تو نخلستانِ بطحا کی خاک کو خون سے رنگیں کردے گا۔
ہم پہلے فتح مکہ میں اس کے متعلق حضرت عثمان بن طلحہ کی روایت نقل کر آئے ہیں جس میں تین پیشین گو ئیاں ہیں ۔ایک یہ کہ ہجرت سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عثمان بن طلحہ سے فرمادیا تھا کہ ایک دن یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ سو اسی کے مطابق فتح مکہ کے روز و قوع میں آیا۔ دوسری یہ کہ آپ نے قریش کی نسبت فرمایا تھا کہ وہ اس دن بجا ئے ہلاک وذلیل ہو نے کے زندگی و عزت پائیں گے۔ اسی کے مطابق فتح مکہ کے دن واقع ہوا۔ قریش نے اسلام میں داخل ہو کر دارین میں حیات طیبہ حاصل کی اور عزت پا ئی۔واقع میں وہ اس سے پہلے ذلت کی زندگی بسر کر رہے تھے کہ ان بتو ں کے آگے سر جھکا تے تھے جنہیں خودانہیں کے ہاتھوں نے تراشا تھا۔ فتح کے دن وہ اس ذلت سے نکل گئے اور ان کو خدا ئے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کا شرف حاصل ہوا۔ تیسری یہ کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضرت عثمان بن طلحہ کو کنجی دیتے وقت فرمایا کہ یہ کنجی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی، ظالم کے سوا کوئی اسے تم سے نہ چھینے گا۔ چنانچہ آج تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال ہو چکے ہیں کہ خانہ کعبہ کی کنجی حضرت عثمان بن طلحہ کے خاندان میں رہی۔ اب ابن سعود نجدی نے جو سلوک اس خاندان سے کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ نجدی مذکور حسب ار شاد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظالم ہے۔ اللّٰہ تعالٰی اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل سے اس فتنہ نجد یہ کا جلدی خاتمہ کر دے۔ آمین ثم آمین۔
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے او صافِ جمیلہ واخلاقِ جلیلہ منجملہ دلائل و ثبوت ہیں ۔چنانچہ آپ کی طلاقت، ([2] ) آپ کا حسن منظر اور آپ کا اعتدالِ صورت ایسا تھا کہ اپنوں کا تو کیا ذکر، بیگا نے بھی جب رُوئےمبارک ([3] ) کو دیکھتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے: ھذا الوجہ لیس بوجہ کذاب ( یہ جھوٹے کا چہر ہ نہیں ہے ) ان شمائل کے ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسنِ اخلاق وآداب پر غور کریں ۔آپ اُمی تھے، آپ کی ولادت ایسے شہر میں ہوئی جہاں کوئی ذریعۂ تعلیم نہ تھانہ آپ نے کبھی وطن کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں جا کر علم حاصل کیا بلکہ اُمیوں ہی میں یتیمی کی حالت میں نشوو نما پا ئی علوم ومعارف سے قطع نظر یہ مکارم اَخلاق اور محاسن آداب آپ نے بجزوحی الٰہی کہاں سے سیکھے۔
الغرض جو شخص بنظر انصاف آپ کی صورت ، آپ کی سیر ت، آپ کے اَفعال اور آپ کے اَحوال کا مطالعہ کرتا ہے اسے آپ کی نبوت کی صحت میں ذر ابھی شک نہیں رہتا کیونکہ جو اَوصاف آپ میں مجتمع تھے وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے یا آپ کے زمانہ میں کبھی کسی میں جمع نہیں ہو ئے اور نہ قیامت تک ہوں گے۔
معجزوں کا اکثر ذکر قرآن میں پایا جاتا ہے مگر کوئی آیت ایسی نظر نہیں آتی جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت محمد صاحب نے معجز ے دکھا ئے ہیں بلکہ بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں معجزے نہ دکھانے کا سبب درج ہے اور بعض ایسی بھی ہیں جن میں وہ صاف ظاہر کر تے ہیں کہ میں معجزے دکھا نے کو نہیں بھیجاگیا۔سورۂ عنکبوت میں یوں مر قوم ہے:
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (۵۰) (عنکبوت، ع۵)
کہتے ہیں کہ اگر اس کے خدا کی طرف سے کوئی نشانی اس پر نازل نہ ہو گی تو ہم ایمان نہ لائیں گے پس (اے محمد ) آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں خدا کے پاس ہیں میں تو ایک نصیحت کرنے والا ہوں ۔ ([4] )
پھر سورۂ بنی اسر ائیل میں لکھا ہے :
وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَؕ-
کوئی چیز ہمیں مانع نہیں ہوئی کہ تجھے معجزوں کے ساتھ بھیجیں مگر یہ کہ اگلے پیغمبر وں کو جو ہم نے معجز ے دے کر بھیجا تھا تو انہیں لوگوںنے جھٹلا یا۔ ([5] )
اس مضمون کو طو یل کر نا ضروری نہیں اس لئے کہ قرآن کا ہر بے تعصب پڑھنے والا اس قول کی تصدیق کرے گا کہ اکثر محمد ی ( مسلمان ) مصنف معجزوں کا ذکر کر کے محمد صاحب سے منسوب کر تے ہیں مگر یہ بات خود محمد صاحب کی باتوں کے خلاف ہے کہ بالکل قابل اعتبار نہیں ۔ ( خطوط بنا م جوانانِ ہند۔پنجاب رلیجس بک سوسائٹی لود ھیانہ امریکن مشن پریس ۱۸۹۰ئ، صفحہ ۲۴۳۔۲۴۴)
عیسائی لوگ مسلمانوں پر اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں مگر انہیں اپنے گھر کی بھی خبر نہیں ۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے معجزات کی نسبت جو کچھ انا جیل اربعہ ([6] ) میں آیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :
{1} مَتّٰی، ([7] ) باب ۱۲، آیۃ ۳۸۔۳۹میں ہے کہ بعض فقیہیوں اور فریسیوں نے مسیح سے ایک نشان طلب کیاجس کے جواب میں آپ نے فرمایا :
’’ اس زمانہ کے بد اور حرامکا ر لوگ نشان ڈھونڈ تے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھا یا نہ جائے گاکیونکہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہے ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ ‘‘
اسی طرح متی، باب ۱۶، آیۃ ۱۔۴ میں ہے کہ فریسیوں اور صدوقیوں ([8] ) نے آزمائش کے لئے حضرت مسیح سے آسمانی نشان طلب کیا مگر یہاں بھی آپ نے وہی جواب دیا کہ یونس نبی کے نشان کے
[1] کعبہ شریف کی دربانی اور کنجی کی پاسبانی۔
[2] خوش بیانی۔
[3] چہرہِ انور۔
[4] ترجمۂکنزالایمان:اور بولے کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ نشانیاں تو اللّٰہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔(پ۲۱،العنکبوت:۵۰)۔علمیہ
[5] ترجمۂکنزالایمان:اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا۔ (پ۱۵، بنی اسرٰء یل:۵۹)۔علمیہ
[6] چاروں انجیلوں ۔
[7] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع