30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمین پر قیامت تک کوئی عیسا ئی نہ رہے گا۔ اللّٰہ کی قسم ! تمہیں اس کی نبوت معلوم ہو چکی ہے اور وہ تمہارے صاحب (عیسیٰ ) کے بارے میں قول فیصل لایا ہے۔ اللّٰہ کی قسم ! جس قوم نے پیغمبر سے مباہلہ کیا وہ ہلاک ہوگئی۔ ‘‘
یہ سن کر عیسائی ڈر گئے اور مباہلہ کی جرأت نہ کر سکے بلکہ صلح کرلی اور جزیہ دینا قبول کیا۔حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اگر وہ مباہلہ کر تے تو بند راور سوربن جاتے اور یہ جنگل ان پر آگ بر ساتا، اللّٰہ نجران اور اس کے باشند وں کو تباہ کر دیتایہاں تک کہ کوئی پر ندہ بھی درخت پر باقی نہ رہتا۔ ([1] )
نصاریٰ کا اس طرح مباہلہ سے گریز صاف بتا رہا ہے کہ اَعد ائے اِسلام بھی حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعاکی اجابت کے قائل تھے۔اس مباہلہ سے ایک اور بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر دین اسلام خدا کی طرف سے نہ ہو تا اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نبی بر حق نہ ہو تے تو ہر گز اپنے دعویٰ پر خدا کے حضور جھوٹے پر لعنت اور غضب الٰہی نازل ہو نے کی بد دعا کرنے کا حوصلہ اور جرأت نہ کر سکتے کیا کوئی اپنی چالاکی سے خدا کو بھی دھو کہ دے سکتا ہے ؟ اگر ایسا ہو سکتا تو پھر عیسا ئی علماء کیوں دعا مانگنے کی جرأت نہ کر سکے۔
اُنگلیوں سے چشموں کی طرح پانی جاری ہونا
حضرت سالم ([2] ) بن الجعدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کر تے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی۔نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک چھا گل تھی آپ نے اس سے وضو فرمایا تو لوگ پانی کے لئے آپ کی طرف دوڑ ے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کی چھاگل کے پانی کے سوا ہمارے پاس نہ وضو کر نے کو ہے نہ پینے کو۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا ہاتھ مبارک چھاگل پر رکھا۔پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی نکلنے لگا۔ہم نے پیااور وضو کیا۔ میں نے حضرت جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پو چھا: تم اس دن کتنے تھے؟ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ ہم ڈیڑ ھ ہزار تھے اگر ایک لاکھ ہوتے تو تب بھی وہ پانی کفایت کرتا۔ ([3] )
یہ معجزہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے متعدددفعہ مختلف جگہوں میں ایک جماعت کثیرہ کے سامنے ظہور میں آیا اور اس کے را وی حضرت جابر بن عبد اللّٰہ، انس بن مالک، عبد اللّٰہ بن مسعود، عبد اللّٰہ بن عباس، ابو یعلی انصاری، زید بن الحارث الصدائی اور ابو عمر ہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں ۔ پس یہ قطعی الثبوت ہے۔ ([4] ) نظر بر اختصار یہاں صرف ایک روایت پر کفایت کی گئی ہے۔یہ معجزہ بھی شق القمر کی طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خصائص میں سے ہے۔
جس طرح وہ انسان جن کے نام پر قرعۂ سعادت پڑا ہوا ہے حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت کے مطیع ومسخر ([5] ) ہیں اسی طرح اللّٰہ تبارک وتعالٰی نے حیوانات کو بطر یق اعجازو خرق عادت ([6] ) حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مطیع ومسخر بنا یا۔از اں جملہ ([7] ) چند مثالیں ذیل میں در ج کی جاتی ہیں ۔
حضرت انس ([8] ) بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک کے ہاں ایک اونٹ تھا جس سے آب کشی کیا کر تے تھے۔ ([9] ) وہ سر کش ہو گیا اور اپنی پیٹھ پر پانی نہ اٹھا تا تھا۔اونٹ کے مالک حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آئے اور عرض کر نے لگے کہ ہمارے ہاں ایک اونٹ ہے جس سے ہم آب کشی کیا کر تے تھے وہ سر کش ہو گیا ہے اپنی پیٹھ پر پانی نہیں اٹھا تاہماری کھجور یں اور کھیتی سو کھ رہی ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو! وہ اٹھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ ایک باغ میں داخل ہوئے۔ وہ اونٹ اس باغ کے ایک گو شہ میں تھا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی طرف روانہ ہوئے ، انصارنے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ اونٹ کاٹنے والے کتے کی مانند ہوگیا ہے ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ کو تکلیف پہنچے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: مجھے اس سے کچھ ڈر نہیں ۔ جب اونٹ نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو آپ کی طرف آیا یہاں تک کہ آپ کے آگے سجدے میں گرپڑا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی پیشانی کے بال پکڑلئے اور وہ ایسا مطیع ہوا کہ کبھی نہ ہوا تھا یہاں تک کہ آپ نے اس کو کام پر لگا دیا۔ آپ کے اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ حیوانِ لا یعقل ([10] ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کر تا ہے اور ہم عقل والے ہیں اس لئے ہم اس کی نسبت آپ کو سجدہ کر نے کے زیادہ سزاوار ([11] )
[1] ابن سعد کی روایت میں ہے کہ عاقب اور سید کچھ مدت بعد جلد مدینہ آئے اور حضور کے دست مبارک پر مشرف باسلام ہوئے۔۱۲منہ (المواھب اللدنیۃ وشرح زرقانی،المقصد الثانی،الوفدالرابع عشر،ج۵،ص۱۸۶-۱۹۰ ملتقطًاوملخصًا ۔علمیہ)
[2] صحیح بخاری، باب علامات النبوت فی الاسلام۔
[3] صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام،الحدیث: ۳۵۷۶، ج۲،ص۴۹۳ ۔علمیہ
[4] یقینی طور پر ثابت ہے۔
[5] اطاعت گزار۔
[6] بطور معجزہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع