دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Rasool e Arabi صلی اللہ تعالی علیہ وسلم | سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

book_icon
سیرتِ رسُولِ عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

            اس آیت کا پہلا حصہ متی،  باب۵،  آیۃ ۱۷۔۱۸۔ اور پچھلا حصہ یوحنا،  باب ۱۴،  آیۃ ۱۶ میں ہے۔ مگر یوحنا کے موجودہ یونانی نُسخوں میں آیۃ زیر استدلال میں بجائے لفظ احمد کے لفظ پاراقلیطوس  (Paracletos) ہے جس کے معنی انگریزی میں کمفرٹر اور اردو میں تسلی دینے والا درج کردیئے گئے ہیں ۔ مگر یہ صاف تحریف لفظی ہے۔ اصل میں یونانی لفظ پر یقلیطوس  (Pariclytos) تھا جس کے معنی ہیں بہت سراہا ہوا یعنی احمد،  اہل کتاب جو اپنی کتابوں میں تحریف کرتے رہے ہیں انہوں نے لفظ پر یقلیطوس کو بدل کر پار اقلیطوس بنادیا۔ جروم جس نے چوتھی صدی مسیحی میں انجیل کا لاطینی ترجمہ کیا اس نے لفظ زیر بحث کو لا طینی میں پیر قلی طاس لکھا ہے جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اصلی نسخہ یونانی جو جروم کے پاس تھا اس میں پریقلیطوس تھانہ کہ پاراقلیطوس۔ اسی طرح انجیل برنباس میں بھی پریقلیطوس موجود ہے۔ علاوہ ازیں اگر انجیل میں بشارت احمد نہ ہوتی تو علمائے اہل کتاب کبھی قرآن کی صداقت پر ایمان نہ لاتے بلکہ اس کے بر عکس قرآن مجید کی تکذیب کرتے۔

… {8}

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ﳎ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-    ( مائدہ، ع۵)

اسی سبب سے لکھا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی مارڈالے ایک جان بغیر بدلے جان کے فساد کے بیچ زمین کے تو گویا مار ڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے جلایا ایک جان کو تو گویا جلایا اس نے سب لوگوں کو۔  ([1] )

            اس آیت کے متعلق تفسیر موضح القرآن میں یوں لکھا ہے: ’’ یعنی ا وَّل روئے زمین میں بڑا گناہ یہی ہوا اور اس سے آگے رسم پڑی۔ اسی سبب سے تورات میں اس طرح فرمایا کہ ایک کو مارا جیسے سب کو مارا یعنی ایک کے کرنے سے اور دلیر ہوتے ہیں تو سب کے گناہ میں اول بھی شریک تھے اور جیسا ایک کو جلایا سب کو جلادیایعنی ظالم کے ہاتھ سے بچادیا۔ ‘‘

            آیت مذکورہ بالا کا مضمون اب تورات موجودہ میں نہیں ملتا مگر تلمود   ([2] )  یعنی احادیث یہود سے پایا جاتا ہے کہ اس میں تھا۔ چنانچہ کتاب پیدائش،  باب ۴،  آیت ہذا میں لفظ خون اصل عبرانی میں بصیغہ جمع ہے۔ اس کی تفسیر میں شناہ سنہدرین  ([3] )   میں مفسر یہودی نے جو کچھ عبرانی میں لکھا ہے۔ اس کا ترجمہ ولیم سینٹ کلرئزل واعظ مشن جلفہ واقع ایران فارسی میں یوں کرتا ہے:

 ’’ نسبت بقاین کہ برادر خو درا کشت یافتہ ایم کے دربارۂ وے گفتہ: آواز خوں ہائے برادرت فریاد برمے آورد نمے گوید خون برادرت بلکہ خونہائے برادرت یعنی خون وے و خون اولادش بنا بریں انسان بہ تنہائی آفریدہ شد۔ برائے آزمودنِ توکہ ہرکہ ہلاک کردیکے نفسے از اسرائیل را کتاب بروے حسابش رامے نماید کہ گویا ہمہ عالم را ہلاک کردہ باشدو ہر کہ یکے نفسے از اسرائیل را زندہ کردکتاب بر وے حسابش را مے نماید کہ گویا ہمہ عالم را زندہ کردہ باشد۔ ‘‘  (ینابیع الاسلام،  صفحہ ۳۹۔۴۰)

  اس ترجمے میں کتاب سے مراد بظاہر تورات ہے۔ فَافْہَمْ!   ([4] )

{9}  وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ  (نساء،  ع۲۲)

اور ان کے سود لینے پر حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے۔  ([5] )

            تفسیر حسینی میں ہے: ’’ حالانکہ نہی کردہ شدہ اند از اخذ ربو در تورات۔ ‘‘  تورات میں یہ ممانعت احبار، باب۲۵،  آیۃ ۳۶ میں ہے۔

            آیات مذکورہ بالا کا اس نبی اُمی  ( بِاَبِی ہُوَ وَ اُ مِّی)  کی زبان مبارک سے نکلنا بجز وحی الٰہی نا ممکن تھا لہٰذا یہ سب اِخْبَار بِالْمُغَِیّبات  ([6] ) کی قسم سے ہیں اور ان کی صحت میں کسی مخالف نے چون و چرا نہیں کی۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل کتاب کو وہ باتیں بتادیں جنہیں وہ چھپاتے تھے۔  (مائدہ،  ع ۳) حالانکہ وہ ان کی کتابوں میں موجود تھیں مثلاً نبی آخر الزمان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نسبت پیشین گوئیاں ،  آپ کے اوصاف،  حکم رجم وغیرہ مگر انمیں سے کوئی بھی اپنی کتاب پیش کرکے آپ کی تکذیب نہ کر سکا۔ اس سے بڑھ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صداقت کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ (۳)  اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ (۴)   (سورۂ نجم)   ([7] )

کتب اِلہامیہ کا محاورہ بھی قابل غور ہے دیکھئے آیات ذیل:

 {1} … فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ (۳۳)   (انعام، ع۴)

سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے لیکن بے انصاف اللّٰہکے حکموں سے منکر ہوئے جاتے ہیں ۔  ([8] )

            اول سموئیل،  باب ۸،  آیۃ ۷ میں ہے:

             ’’ وہ تجھ سے منکر نہیں ہوئے ہیں بلکہ مجھ سے منکر ہوئے ہیں ۔ ‘‘

 



[1]     ترجمۂکنزالایمان:اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیااور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا۔( پ۶، المائدۃ : ۳۲)۔علمیہ

[2]     سیرت رسول عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ طلمود ‘‘  لکھا ہے لیکن تاریخ وسیرت کی کتب میں ’’   تلمود  ‘‘ہے لہٰذا ہم نے یہاں ’’ طلمود ‘‘  کی جگہ ’’    تلمود   ‘‘   لکھا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اَعلَم

[3]     ایک کتاب کا نام ہے۔        

[4]     خوب سمجھ لو۔

[5]     ترجمۂکنزالایمان:اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے۔ (پ۶،النساء:۱۶۱)۔علمیہ

[6]     غیب کی خبریں دینا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن