30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ہرذی رُوح میں اجر ہے۔ ([1] )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفقت عامہ کا مقتضا ء تھا کہ آپ نے چو پایوں کو باہم لڑانے ([2] ) کسی جانور کو نشانہ بنانے ([3] ) کسی چوپائے یا جانور کو ہلاک کرنے کے لئے حبس ([4] ) کرنے ([5] ) اورحیوان کو مثلہ ([6] ) بنا نے سے منع فرمادیا۔
پر ندوں اور حشرات الارض پر شفقت و رحمت
حضرت عبد الرحمن کے والد عبد اللّٰہ بیان کر تے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے۔آپ قضا ئے حاجت کے لئے تشریف لے گئے ہم نے ایک پر ندہ (زورک) ([7] ) کو دیکھاجس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ہم نے دونوں بچوں کوپکڑ لیازور ک آئی اور اُتر نے کے لئے بازو پھیلانے لگی اتنے میں نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا : ’’ اس کے بچوں کو پکڑ کر اسے کس نے دکھ دیاہے اس کے بچے اسے واپس دے دو۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک چیونٹیوں کاگھر دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا کہ اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم نے جلا یا ہے۔ اس پر آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ’’ جائز نہیں کہ خدا کے سوا کوئی کسی کو آگ کا عذاب دے۔ ‘‘ ([8] )
ایک روز حضرت عثمان بن حبَّان نے ایک پسو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا۔اس پر حضرت اُم درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے کہا : میں نے ابو الدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سنا ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ آگ کے مالک (خدا) کے سوا کوئی کسی کو آگ کا عذاب نہ دے۔ ‘‘ ([9] )
عامر تیرانداز سے روایت ہے کہ ہم نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں تھے ، نا گاہ ایک شخص آیا جس پر کمبل تھا اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر اس نے کمبل لپیٹا ہوا تھا، اس نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدرختوں کے جنگل میں میرا گز رہوا میں نے اس میں ایک پر ندے کے بچوں کی آواز یں سنیں میں نے ان کو پکڑ لیا اور اپنے کمبل میں رکھ لیاان کی ماں آئی اور میرے سر پر منڈلا نے لگی میں نے کمبل کو بچوں پر سے دور کر دیاوہ ان پر گرپڑی میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا اور وہ یہ میرے پاس ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ان کو رکھ دے۔ میں نے ان کو رکھ دیامگر ان کی ماں نے ان کا ساتھ چھوڑنے سے انکارکیا۔ آپ نے فرمایا: کیا تم بچوں پر ماں کے رحم کرنے پر تعجب کر تے ہو۔اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے، تحقیق اللّٰہ اپنے بندوں پر ان بچوں کی ماں سے بڑھ کر رحم کر نے والا ہے تو ان کو واپس لے جااور ان کو ماں سمیت وہیں رکھ دے جہاں سے انہیں پکڑا ہے۔ پس وہ ان کو واپس لے گیا۔ ([10] )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے جمادات ونباتا ت کو بھی حصہ ملا ہے۔ آپ کی بعثت سےزمین شرک وکفر کی نجاست سے پا ک ہو ئی اور نورِ ایمان چاروں طرف پھیل گیا۔ مسجد یں تعمیر ہونے لگیں ، اور اذان میں اللّٰہاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نام پکا را جانے لگا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تَوَلُّد ہونے کے بعد آسمان پر شیاطین کا جانا بند ہو گیا۔
جب اِمساک با راں ([11] ) ہو تاتو لوگ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ پکڑ کر دعا کیا کر تے اور وہ مستجاب ہو جاتی یاحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخو د دعافرمایا کر تے اور بارانِ رحمت نازل ہو تاجس سے مردہ زمین پھر زند ہ ہو جاتی اور نباتا ت اُگتے۔
غرض آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحمت سے دونوں عالم کو حصہ پہنچا ہے۔ انسان کے علاوہ جنات بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعوت سے دولت ایمان سے مشرف ہوئے، فرشتے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر درود بھیجنے کے سبب سے مُوْرِدِ رَحمت الٰہی بنے رہتے ہیں کیونکہ حدیث مسلم میں ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ جو کوئی مجھ پر ایک بار درودبھیجتا ہے اللّٰہ اس پر دس باردر ود بھیجتا ہے۔ ‘‘ ([12] )
باوجود علو مر تبت کے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے بڑھ کر متواضع تھے۔ آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ بار گاہ الٰہی سے ایک فرشتے نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پر وردگار ارشاد فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو پیغمبر ی کے ساتھ بند گی وفقراختیار کریں اور اگر چاہیں تو نبوت کے ساتھ بادشاہت اور امیر ی لے لیں ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیغمبر ی کے ساتھ بند گی کو پسند فرمایا۔ اس کے بعد حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتکیہ لگا کر کھانانہ کھاتے اور فرماتے: ’’ میں کھانا کھاتا ہوں جیسے بند ہ کھایا کر تا ہے اور بیٹھتا ہوں
[1] تیسیر الوصول بحوالہ مالک و بخاری و مسلم و ابو داؤد۔ (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب رحمۃ الناس والبہائم،الحدیث: ۶۰۰۹،ج۴،ص۱۰۳وصحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی المائ،الحدیث:۲۳۶۳،ج۲،ص۹۸۔علمیہ)
[2] مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی و ابو داؤد، باب ذکر الکلب۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الصید والذبائح،باب ذکر الکلب،الحدیث: ۴۱۰۳،ج۲،ص۷۹۔علمیہ)
[3] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع