30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کعبہ کی تعمیر:
بیت اللہ شریف مکہ مکرمہ کی مرکزی عمارت تھی۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جوانی میں اس کی کیفیت یہ تھی کہ یہ چھت سے محروم چار دیواری تھی جو آدمی کے قد کے برابرتھی۔ ایسے میں ایک دفعہ موسلا دھار بارش برسی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، پانی حرمِ کعبہ میں آگیا جس سے کعبہ شریف کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور اس کا کچھ حصہ بھی گر گیا۔ قریش نے طے کیا کہ مکمل عما رت توڑ کر پھر سے کعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائےجس کا دروازہ بلند ہو اور اس کی چھت بھی ہو۔ 1 حُسنِ اتفاق کہ انہی دنوں ایک بڑی کشتی کو سمندر کی موجوں(لہروں) نے دھکیل کر جدہ2 کے ساحل پر پھینک دیا۔ اس کی قیمتی لکڑی بڑی کارآمد(کام میں آنے والی) تھی، قریش کو معلوم ہوا تو انہوں نے اس کے تختے خرید لیے اور ضروری سامان بھی منگوا لیا۔ کعبے کی پرانی عمارت کو شہید کر کے انہی بنیادوں پر ایک بلند و بالا اور مضبوط عمارت کی تعمیر شروع ہو گئی۔ سب نے اس کام میں حصہ لیا، خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نےبھی اس میں حصہ لیا اور اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر پتھر ڈھوتے(اٹھاتے) رہے۔ جب حَجرِ اسود3 عمارت میں نصب کرنے
1السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ص78مختصرا -سیرت حلبیہ،1/204 ، 205ملتقطا
2 جدہ(Jeddah) خطّۂ حجاز میں بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک قدیم شہر ہے۔حرمین شریفین کے لئے اہم گزر گاہ ہونے کے ساتھ یہ تجارتی اور ثقافتی مرکز بھی ہے، اسکا ہوائی اڈہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے جبکہ کئی زا ئرین بحری جہازوں کے ذریعے بھی یہاں سے گزرتے ہیں۔ یہ شہر سردیوں میں بھی گرم رہتا ہے۔اب آبادی چار ملین سے زائد ہے۔
3 حجرِ اسود ایک پتھر ہے جو حضرت آدم علیہ السّلام کے ساتھ جنت سے اتارا گیا، اس پتھر کو چھونا اور چومنا گناہوں کو مٹا تا ہے۔ اہلِ عرب میں یہ پتھر بہت محترم سمجھا جاتا تھا۔آج بھی یہ پتھر کعبے کی دیوار میں نصب ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع