30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت خدیجہ سے نکاح:
رسمِ دنیا یہی ہے کہ پیغام لڑکے وا لوں کی طرف سے جاتا ہے لیکن چونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یقین تھا کہ آخری نبی یہی ہیں تو انہوں نے اس سعادت کو حاصل کرنے میں تاخیر مناسب نہ سمجھی اور خود کوششیں شروع کر دیں۔ پہلے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے آپ کے ذاتی حالات معلوم کئے، اس کے بعد اپنی ایک سہیلی نفیسہ بنت منیہ کو آپ کے پاس بھیجا اور اس رشتے کے بارے میں آپ کی ذاتی رائے معلوم کرنےکی کوشش کی، جس سے انہیں لگا کہ آپ انکار نہیں کریں گے۔ اس کے بعد باقاعدہ رشتے کی پیش کش کی گئی تو آپ نے حضرت خدیجہ کی اس درخواست کو اپنے خاندان کے بڑوں اور اپنے چچاؤں کے سامنے رکھا ۔ انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا۔ آپ کا نکاح ہوا جس میں آپ کے چچا ابوطالب نے اپنے مال سے 20 اونٹ حق مہر مقرر کیا۔1
پیکرِ صدق و وفا:
عمروں میں فرق ہونے کے باوجود شوہراور بیوی کی باہمی محبت بے مثال تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی خاتون ہیں جن سے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰ لہٖ وسلم نے شادی کی، ان کے ایثار اور خدمت گزاری نے آپ کو اتنا متاثر کیا کہ جب تک حضرت خدیجہ حیات رہیں آپ نے کسی اور خاتون سے شادی نہ کی۔ان کی وفات کے بعد آپ نے کئی اور نکاح فرمائے مگر حضرت خدیجہ کی محبت کا اثر ایسا گہرا تھا کہ آپ زندگی بھر ان کو یاد کرتے رہے اور ان کی وفاؤں کے تذکروں سے انہیں خراجِ تحسین پیش فرماتے(اپنی محبتوں کا اظہار کرتے) ر ہے۔ حضرت ابراہیم
1 شرح الزرقانی علی المواہب ، 1/370تا377مختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع