30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اخلاقی وغیرہ جیسی نیک صفات نے بھی محبت بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہوگا۔ واپسی پر میسرہ نے آپ کو مکہ پہلے اور اکیلے پہنچنے کا مشورہ دیا تاکہ آپ خود حضرت خدیجہ کو اس عظیم نفع کے بارے میں بتائیں۔ جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت حضرت خدیجہ مکان کی چھت پر بیٹھی تھیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا کہ دو فرشتے آپ پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اتنے میں آپ تشریف لائے اور حضرت خدیجہ کو بتایا کہ اس دفعہ نفع اس سے دو گنا ہے جو پہلے حاصل ہوتا تھا۔ حضرت خدیجہ بہت خوش ہوئیں اور کہا: آپ جائیں اور قافلے کو ساتھ لے کر جلدی واپس آئیں۔ اس سے حضرت خدیجہ کو یہ تصدیق کرنی تھی کہ وہ آپ ہی ہیں جنہیں تھوڑی دیر پہلے نرالی شان کے ساتھ دیکھا تھا۔ آپ جب روانہ ہوئے تو حضرت خدیجہ جلدی سے اوپر جا کر دوبارہ اسی نظارے سے لطف اندوز ہونے لگیں کہ فرشتے سایہ کر رہے ہیں، اس منظر نے حضرت خدیجہ کے دل پر گہرا اثر کیا۔ کچھ دن کے بعد انہوں نے اپنے غلام میسرہ سے اس بات کا ذکر کیاتو میسرہ نے بتایا کہ میں تو پورے سفر میں اسی طرح کے مناظر دیکھتا رہا ہوں، پھر میسرہ نے اس طویل سفر میں آپ کی صداقت و دیانت، حُسنِ سلوک و غمخواری، معاملات کو سمجھنے اور کاروباری مہارت کے ساتھ ساتھ دیگر غیر معمولی روح پرور (دلکش)مناظر بیان کئے، یہ سن کر حضرت خدیجہ کے دل میں آپ کے لئے عقیدت و محبت پیدا ہو گئی۔1
حضرت خدیجہ کا تعارف:
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عام الفیل(ہاتھی والے واقعے کے سال)سے 15 سال پہلے پیدا ہوئیں، والدہ کا نام ”فاطمہ بنت زائدہ“ اور والد کا نام ”خُوَیلِد“ ہے جو تاجر تھے۔ حضرت خدیجہ
1 سیرت حلبیہ، 1/ 196، 197
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع