30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سستی چستی میں بدل گئی:
دورانِ سفر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دو اونٹ تھک کر سست ہو گئے اور قافلے کا ساتھ دینے کے قابل نہ رہے۔ اس وقت آپ قافلے کے اگلے حصے میں تھے، میسرہ نے آگے جا کر آپ کو اس پریشانی کا بتایا۔ آپ نے پیچھے آکر سست ہو جانے والے اونٹوں کی پچھلی ٹانگوں پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور کچھ پڑھ کر دم کیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ فوراً ان کی سستی دور ہو گئی اور وہ تمام اونٹوں سے زیادہ تیز رفتار ہو گئے اور اگلے حصے میں پہنچ گئے۔1
نسطورا راہب سے ملاقات:
چند دنوں کی مسافت(سفر) کے بعد قافلہ شام کے مشہور شہر ”بُصریٰ“ پہنچا اور وہاں مشہور راہب نسطورا کی خانقاہ کے پاس پڑاؤ(قیام) کیا۔ آپ ایک درخت کے پاس جا کر بیٹھ گئے ۔ راہب نے جب آپ کو وہاں بیٹھا دیکھا تو اس نے میسرہ کو بلایا، میسرہ اس راستے پر اکثر سفر کرتا رہتا تھا، یوں راہب اس سے واقف تھا، اس نے میسرہ سے کہا: یہ کون ہیں جواس درخت کے نیچے اترے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیا: یہ شہرِ مکہ کے رہنے والے ہیں، بنوہاشم سے تعلق ہے، ان کا نام ”محمد“ ہے اور لقب ”امین“ ہے۔ راہب کہنے لگا: سوائے نبی کے آج تک اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا ان کی آنکھوں میں سرخی رہتی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا: ہاں، ہے اور ہر وقت رہتی ہے۔ یہ سن کر نسطورا کہنے لگا: یہی اللہ کے آخری نبی ہیں، مجھے ان میں وہ تمام نشانیاں نظر آ رہی ہیں جو تورات اور
1 سیرت حلبیہ، 1/196
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع