30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سامان سے لدے ہوئے اونٹ ضرور ساتھ ہوتے۔ یہ حضرت خدیجہ کی غیرمعمولی سوجھ بوجھ (سمجھداری) کا کرشمہ تھا کہ آپ خود تجارتی سفرنہیں کرتی تھیں مگر اس دور کی ایک کامیاب تاجرہ اور مکہ کی خوشحال ترین خاتون تھیں۔
پھر سے شام کا سفر:
یہ وہی دن تھے جب قافلہ تجارت کے لئے مکہ سے شام کی طرف روا نہ ہو رہا تھا اور اسی قافلے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عمر مبارک تقریباً 25 برس تھی۔ آپ کے چچا ابوطالب کو اس قافلے کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے صادق و امین بھتیجے کو اس سفر کے لئے تیارکرنے کی کوشش کی۔آپ نے اپنی خود داری کے سبب طالب اور سائل بننا گوارا نہ کیا اور اپنے چچا سے کہا: ” فَلَعَلَّهَا أَنْ تُرْ سِلَ اِلَيَّ فِيْ ذٰلِكَ یعنی شایدوہ (خدیجہ) خود ہی اس سلسلے میں مجھے بلا لیں۔“ ابو طالب نے موقع ہاتھ سے نکلنے کے خطرے کا اظہار کیا مگر آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ ادھر حضرت خدیجہ تک جب آپ کی امانت و صداقت کی شہرت پہنچی تو انہوں نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا مالِ تجارت ملکِ شام لے کر جائیں! جو معاوضہ میں دوسروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا دوگنا (Double) دوں گی۔ آپ نے یہ درخواست قبول فرمائی اور تجارت کا سامان اور مال لے کر ملکِ شام روا نہ ہو گئے۔ حضرت خدیجہ نے اپنا ایک غلام مَیْسَرہ بھی خدمت گزاری کے لئے ساتھ کر دیا تاکہ آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔ 1
1 سیرت حلبیہ، 1/193
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع