30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریش کے تجارتی سفر:
قریش کا پیشہ تجارت تھا اور ان کے تجارتی قافلے موسمِ گرما میں شام اور موسمِ سرما میں یمن کا رخ کرتے تھے۔اس دور میں ان راستوں کے آس پاس قتل و غارت گری ہوتی رہتی تھی، قافلے لٹتے رہتے اور مسافر مارے جاتے تھے مگر قریش بڑے امن میں رہتے تھے۔ ہر جگہ کے لوگ انہیں اہلِ حرم کہتے اور ان کی عزت کرتے تھے، یہ امن کے ساتھ تجارتیں کرتے، ان تجارتوں سے فائدے اُٹھاتے اور مکہ شریف جہاں نہ کھیتی ہے، نہ معاش (کمانے ) کے اسباب، وہاں مسلسل سرمایہ پہنچاتے اور خوشحالی کی زندگی گزارتے تھے۔ بعثت کے بعد جب قریش نے رب کو وحدہُ لاشریک ماننے سے انکارکیا تو اللہ کریم نے فرمایا:
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ(۳)1
ترجمہ:” تو انہیں چاہیےاس گھر کےرب کی بندگی کریں۔“
یعنی قریش کو چاہیےکہ اس رب کی عبادت کریں جس نے قریش کو ہر سال میں دو سفروں کی طرف رغبت دلائی اورجس کے گھرکی برکت سے انہیں امن اور سلامتی ملتی ہے۔2
مکہ کی ایک کامیاب تاجرہ:
مکہ کے جو تاجر ان سفروں میں سب سے زیادہ حصہ لیتے تھے ان میں سر فہرست حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔ یہ کامیاب اور دولت مند تاجرہ ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق کا پیکرِ جمیل تھیں۔ عفت و پاک دامنی کی وجہ سے اس دور میں بھی ”طاہرہ“ کے پاکیزہ لقب سے مشہور تھیں۔ جب تجارتی قافلہ بیرونِ ملک جاتا تو ان کے
1 پ 30،قریش: 3
2 تفسیرخازن،پ30، تحت الآیۃ:3، 4/411، 412
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع