30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حمایت اور ظالم کا محاسبہ کریں گے۔ یہی عہد و پیمان (معاہدہ)بعد میں”حِلفُ الفضول“ 1 کے نام سے مشہور ہوا۔ عہد و پیمان کے بعد سب سردار مل کر عاص کےپاس گئےاور اس سے زبیدی تاجر کو اس کا حق دلوایا۔ اس معاہدے میں اللہ کےآخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی بنفسِ نفیس شامل تھے اور آپ اس معاہدے کااتنا لحاظ فرماتےکہ زمانہ نبوت میں فرمایا کرتے تھے: ” لَوْ دُعِیْتُ بِہٖ لَاَجَبْتُ یعنی اگر آج بھی اس معاہدے کے نام پر مجھے مدد کے لئے پکارا جائے تو میں اس پکار پر لبیک کہوں گا ۔“2
تجارتی اسفار
قریش چونکہ تاجر پیشہ لوگ تھے، اسی وجہ سے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھی کسبِ حلال کے لئے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا۔ اجرت پر گلہ بانی کرنے کے ساتھ ساتھ آپ تجارت کی غرض سے کئی سفروں پر تشریف لے گئے۔ 10 برس کی عمر میں آپ نے اپنے چچا زبیر بن عبدالمطلب کے ساتھ یمن3 کا تجارتی سفربھی فرمایا۔4 حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ما ل لےکر آپ نے جُرَش(یمن میں ایک مقام)کی طرف دو بارتجارتی سفر فرمایا۔
1 بہت عرصہ پہلے مکہ میں اسی طرح کاایک معاہدہ ہوا تھا، اس معاہدے کا سبب بننے وا لوں کا نام ”فضل“ تھا، یوں اس کا نام پڑ گیا:”حلف الفضول“ یعنی ان چند آدمیوں کا معاہدہ جن کے نام ”فضل“تھے۔اسی طرح کایہ دوسرا معاہدہ تھا، اسےبھی اسی نام سے شہرت مل گئی۔ (آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیا ری سیرت،ص3 ملخصاً)
2 طبقات ابن سعد،1/103- الروض ا لانف ، 1/242-244 ملخصاً
3 یمن (Yemen) جزیرۂ عرب کے جنوبی سرے پر واقع ہے،پرانا یمن موجودہ سےکہیں زیادہ بڑا تھا۔عہدِ نبوی میں یمن ایک زبردست تجارتی مرکز اور ترقی یافتہ خطہ تھا،حضرت مولا علی رضی ا للہُ عنہ کو ملکِ یمن کے جج کا عہدہ بخشا گیا تھا۔ صنعاء(Sana'a) اب ملک کا دارالحکومت ہےجس کا مکہ سے فاصلہ تقریباً1060کلو میٹر ہے۔
4 سبل الہدی والرشاد، 2/139
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع