30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقعہ پیش آیا۔ یہ جنگ قریش اور بنو ہوازن کےد رمیان ہوئی اورقریش اس میں حق پر تھے۔1 اس جنگ میں اللہ پاک نے اپنے حبیب کی حفاظت فرمائی، آپ کی شرکت صرف اس حد تک تھی کہ آپ کے سارے چچا اس جنگ میں شریک تھے اور ان کے ساتھ آپ بھی جلوہ فرما تھے۔ آپ نے بذاتِ خود نہ تو جنگ میں حصہ لیا ، نہ ہی کوئی آپ کے ہاتھوں مارا گیا اور نہ زخمی ہوا۔2 آپ کے مبارک وجود کی برکتیں یہاں بھی ظاہر ہوئیں، وہ ایسے کہ جب تک آپ میدان میں تشریف فرما رہتے،قریش غالب آنےلگتے، جب آپ واپس چلے جاتے تو فریقِ مخالف دباؤ بنالیتے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر سب کہہ اٹھے: ” لَاتَغَبْ عَنَّا یعنی ہمیں چھوڑ کر مت جایا کرو۔“ پھر آپ وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ فریقین میں باہمی صلح ہو گئی۔3
حِلْفُ الفضول میں شرکت:
جنگوں سے امن ہوا تو حالات معمول پر آنے لگے، ایک دن زبید قبیلے کا ایک فرد کچھ سامان لے کر مکہ آیا۔ شہر مکہ کے ایک طاقت ور سردار عاص بن وائل نے اس سے سامان خریدا، مگر اس زبیدی تاجر کواس کا حق نہ دیا۔ وہ بےچارہ دوسرے کئی سرداروں کےپاس گیا اور فریاد کی مگر کچھ اثر نہ ہوا۔شاید اس کی وجہ عاص بن وائل کا اثر و رسوخ(دباؤ) رہاہو۔ بہرحال وہ تاجر جب ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو مکہ کے بیچوں بیچ واقع جبلِ ابوقبیس 4 پر چڑھ گیا اور اشعار کی
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ص75
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ص75
3 سیرت حلبیہ، 1/186
4 اَبُو قبیس دُنیا کا سب سے پہلاپہاڑ ہے، مسجدِ حرام کے باہَر صَفا ومَروہ سے قریب واقِع ہے۔ اِس پہاڑ پر دُعا قبول ہوتی ہے ، حَجرِ اَسوَد جنَّت سے یَہیں نازِل ہُوا تھا۔ طوفانِ نوح میں حجر اسود اسی پہاڑ میں بحفاظت تشریف فرما رہا، اسی وجہ سے اسے”اَلْاَمِین“بھی کہا جاتا ہے۔(عاشقانِ رسول کی 130 حکایات، ص238 ملخصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع