30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں آتے ہیں، ان کے پاس ان کی نعمت وفضل میں بسر کرتے ہیں۔1
تجارت کے لئے سفرِ شام:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب تقریباً 12 سال کے تھے، اس وقت جناب ابوطالب قریش کے ایک تجارتی قافلے کےساتھ شام جانے کے لئے تیار ہوئے۔ اپنے لاڈلے بھتیجے کو ساتھ لے جانے کا ارادہ نہیں تھا کہ آپ کی عمر کم اور سفرطویل وکٹھن تھا، لیکن جب قافلے کی روانگی کا وقت آیا تو آپ نے چچا کی سواری کی لگام تھام لی اور گویا ہوئے:” يَا عَمِّ، اِلٰی مَنْ تَكِلُنِی؟ لَا اَبَ لِیْ وَلَا اُمَّ چچا جان! آپ مجھےکس کے سپردکر کےجا رہے ہیں؟ نہ میرے والد نہ میری والدہ۔“ ان جملوں نے آپ کے چچا پر ایسا اثر کیاکہ وہ نہ صرف آپ کو ساتھ لے جانے پر راضی ہوئے بلکہ اعلان کر دیا: ” لَایُفَارِقُنِیْ وَلَا اُفَارِقُہُ اَبَدًا یعنی آئندہ ہم کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔“2 سفرشروع ہوا، کئی دنوں کی مسافت (سفر)کے بعد قافلہ بُصریٰ3 پہنچا۔
کاروان کی دعوت:
وہاں ایک درخت کے سائے میں کاروان نے قیام کیا، اس درخت کے قریب ہی ایک خانقاہ تھی جہاں ایک عیسائی راہب ”جرجیس“ جو ”بحیرا“ کے لقب سے مشہور تھا ایک
1 السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/89 ملخصاً
2 السیروالمغازی لابن اسحاق،ص73
3 بُصریٰ(Busra) جنوبی شام کا ایک قدیم اور اہم شہر ہے۔ بصریٰ کا معنیٰ ہے: بلند قلعہ۔ مکہ شریف سے اس کا فاصلہ لگ بھگ 1575 کلو میٹر ہے۔ مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہُ عنہ کے ہاتھوں اسے فتح کیا۔ ایک عرصے تک یہ شہرمعروف و مشہور رہا پھر فتنہ تاتار نےاس شہر کو ایسا اجاڑا کہ یہ گمنامی کا شکا ر ہو گیا۔ (معجم البلدان، 1/348)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع