30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصیبت سے چھٹکارا پانے کی تدبیریں سوچ رہے تھے، کوئی کسی بت سے فریاد کرنے کا مشورہ دے رہا تھا ، کوئی کسی بت کی چوکھٹ پر سر جھکانے کی تجویز دے رہا تھا۔ ایک سمجھ دار و عقل مند شخص کہنے لگا: ” اَنّٰی تُؤْفَکُونَ یعنی کہاں بھٹکتے پھر رہے ہو؟“ جب تمہارے درمیان ابراہیم و اسمٰعیل کی اولاد کی نشانی موجود ہے تو اِدھر اُدھر کیوں جا رہے ہو؟ کچھ لوگ سمجھ گئے، کہنے لگے: شاید ابو طالب کی طرف اشارہ کر رہے ہو؟ کہا: ہاں! انہی کا کہہ رہا ہوں۔ اس رائے سے سب نے اتفاق کیا اور جناب ابوطالب کے دروازے پر آئے اور انہیں کہا: آپ دیکھ رہے ہیں کہ کیسا زور دار قحط پڑا ہے۔ براہِ کرم! آئیے! اور بارش کے لئے دعا مانگئے۔ وہ سب کے ساتھ روانہ ہوگئے، ان کے ساتھ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰ لہٖ وسلم بھی تھے، اس وقت آپ نوخیز لڑکے کی طرح تھے، لیکن نبوت کے انوار اپنا رنگ دکھا رہے تھے، رُخِ انور کو دیکھ کر ایسا لگتا جیسے سورج ابھی بادلوں سے نکلا ہو۔ جناب ابوطالب نے آپ کو پکڑا اور کعبہ شریف سے آپ کی پیٹھ مبارک لگادی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔ اس وقت بادلوں کا نام و نشان نہ تھا، ہاتھ اٹھاتے ہی بادل کی ٹکڑیاں نجانے کہاں سے اُمڈ کر آگئیں، پھر ایسی موسلا دھار بارش برسی کہ ہر طرف جل تھل ہو گیا۔ بعد میں آپ کے چچا نے اپنے ایک قصیدے میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شعر کہے:
وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ ثِمَالُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَرَامِلِ
تَلَوَّذَ بِہِ الْھَلاَکُ مِنْ اٰلِ ھَاشَمٍ فَھُمْ عِنْدَہُ فِی نِعْمَۃٍ وَ فَوَاضِلِ
یعنی وہ گورے رنگ والے کہ ان کے منہ کے صدقے میں بارش کا پانی مانگا جاتا ہے۔ یتیموں کے جائے پناہ ،بیواؤ ں کے نگہبان ۔بنی ہاشم(جیسے غیور لوگ) تباہی کے وقت ان کی پناہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع