30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دور ہو گئی تھی۔ شاید یہ اس لئے تھا کہ کل دنیا بھر کے درد مندوں نے جس کے در پر آ کر اپنے درد کا درماں(علاج) کرنا ہے تو وہ پہلے سے ہی درد آشنا (درد سے واقف) ہو اور سراپا رحمت و شفقت بن کر دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔
شفیق دادا کی کفالت میں:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم والدین کی رحلت (وفات)کے بعد مکمل طور پر اپنے دادا کی کفالت میں آ گئے۔ والدہ کے وصال کے بعد شفیق و مہربان دادا کی اپنے پوتے سے محبت و الفت اور بڑ ھ گئی۔ وہ ہر وقت اپنے پوتے کو ساتھ رکھتے، لاڈلے پوتے کے بغیر کھانا نہ کھاتے۔ چونکہ حضرت عبدالمطلب قریش کے سردار تھے یوں ان کے لئے کعبہ شریف کے سائے میں ایک خصوصی نشست بچھائی جاتی تھی، کسی کی مجال نہ تھی کہ اس پر قدم رکھتا لیکن ان کا یہ لاڈلا پوتا بلاجھجک اس پر چڑھ کر بیٹھ جاتا، آپ کے چچا روکنا چاہتے توحضرت عبدالمطلب کہا کرتے:” دَعُوْا اِبْنِی! فَوَ اللہ اِنَّ لَہ لَشَاْناً یعنی میرے بیٹے کو مت پکڑو! اس کا مقام بڑا بلند ہے۔“ پھرآپ کو اپنے ساتھ پہلو میں بٹھاتے اور آپ کی پشت مبارک (پیٹھ) پر پیار سے ہاتھ پھیرتے۔ 1 وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ وہ دن آیا کہ جس میں مکہ وا لوں پر رنج و غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور ان کا محبوب سردار ہمیشہ کے لئے ان سے جدا ہوگیا۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زندگی کا آٹھواں سال(579ء) تھا، حضرت عبد المطلب کی وفات پر سوگ میں کئی دن تک مکہ کے بازار بند رہے۔ جب آپ کا جنازہ اٹھایا
1 سیرت حلبیہ، 1/158- السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص69
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع