30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدہ آمنہ کے آخری لمحات:
خوش قسمتی سے وا پسی پر بھی آپ کو ایک بااعتماد قافلہ مل گیا جس کے ساتھ آپ سفر کر کے واپس پہنچ سکتی تھیں۔ مگر زندگی نے وفا نہ کی، ابواء1 کے مقام پر طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ آپ نے محسوس کر لیا کہ اب یہ میری آخری سانسیں ہیں۔ حضرت آمنہ بہترین شاعرہ تھیں، زندگی کے آخری لمحات میں انہوں نے اپنے پیارے بیٹے کے لئے جو دل آویز نصیحت کی وہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ معنویت(اپنے معنی) میں بھی بے مثال ہے۔ ان نصیحت بھرے اشعار میں انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے رب کی طرف سے تمام کائنات کا رسول بننے کی پیشین گوئی فرمائی اور انہیں ہمیشہ بتوں سے دور رہنے کی وصیت فرمائی۔2
سیدہ آمنہ کا وصال:
اشعار کے بعد آپ کے آخری جملے یہ تھے:” كُلُّ حَیٍّ مَيِّتٌ وَكُلُّ جَدِيدٍ بَالٍ، وَكُلُّ كَبِيرٍ يَفْنَی وَاَنَا مَيِّتَۃٌ وَ ذِكْرِیْ بَاقٍ وَ قَدْ تَرَكْتُ خَيْرًا وَوَلَدْتُ طُہْرًا یعنی ہر زندہ کو مرنا ہےاور ہر نئے کو پرانا ہوناہےاور کوئی کیسا ہی بڑا ہو ایک دن فنا ہونا ہے۔ میں بھی جا رہی ہوں لیکن میرا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ باقی رہے گا، اس لئے کہ کیسی عظیم خیر چھوڑ کرچلی ہوں اور کیسا ستھرا بیٹا پیدا کیا ہے۔“ یہ کہا اور انتقال فرما گئیں، آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔3 اعلیٰ حضرت، امام احمد
1 ابواء (Abwa) ایک وادی ہے جو مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان میں سمندرکی طرف واقع ہے۔ اس کا فاصلہ مکہ شریف سے تقریباً261 جبکہ مدینہ شریف سے تقریباً 222کلومیٹر ہے۔ وادیِ ابواء میں ایک غزوہ بھی درپیش آیا تھا جس میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی تھی۔ آج کل وادیِ ابواء خریبہ کے نام سے مشہور ہے۔
2 مواہب لدنیہ، 1/ 89 ملخصاً
3 مواہب لدنیہ، 1/ 88، 89
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع