30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھ لے کر سفر شروع کر دیا۔ یہ مختصر کارواں (بظاہر) دو اونٹوں پرمشتمل تھا۔1 جسے یقیناً کسی بڑے قافلے2 کا ساتھ حاصل تھا۔ وہاں پہنچ کر سیدہ آمنہ نے بنو عدی بن نجار کے ہاں دار النابغہ میں ایک ماہ تک قیام فرمایا۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وہاں کے واقعات کو بعد میں یادوں کی صورت میں بیان فرماتے تھے۔ ایک مکان کو دیکھ کر فرمایا: یہی وہ مکان ہےجس میں میری والدہ نے قیام کیا تھا، یہیں میرے والد ماجد کوبھی دفنایا گیا تھا۔ ایک دفعہ فرمایا: میں نے بنو عدی بن نجار کےتالاب میں تیرنے میں مہارت حاصل کی تھی۔3
یہودیوں کی دشمنی:
یہود ہمیشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کے دشمن رہے ہیں۔حضور کے بچپن میں بھی انہوں نے اپنی اسی دشمنی کا اظہار کیا۔ انہیں جیسے ہی آپ کے مدینے آنے کی بھنک پڑی تو آپ میں آخری نبی ہونے کی نشانیاں تلاش کرنے کے درپے ہوئے تاکہ تصدیق کے بعد آپ کو نقصان پہنچا سکیں، ان کی کوششیں اس حد تک بڑھ گئیں کہ یہ آپ کے مکان تک پہنچ گئے۔ سیدہ آمنہ کو جیسے ہی پتا چلا، آپ نے خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا اور فوری وہاں سے چلے جانے کا ارادہ کر لیا۔4
1 طبقات ابن سعد، 1/ 93
2 درایتاً یہ بات عجیب ہے کہ حضرت آمنہ اس طویل اور مشکل سفرمیں صرف اپنے شہزادے اور ایک خادمہ کے ساتھ ہوں۔ قرینِ قیاس یہ ہے کہ مدینہ کو جاتے اور آتے وقت آپ کو شام کی طرف جانے والے قافلوں کا ساتھ حاصل ہوگا۔ اس بات کی مزید تحقیق اور دلائل کے لئےالمدینۃ العلمیہ کی کتاب ”آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے والدین کریمین (ویب ایڈیشن)“ صفحہ 73 تا 75 کا مطالعہ فرمائیں۔
3 طبقات ابن سعد، 1/ 93 ملتقطاً
4البدایہ والنہایہ،2/238
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع