30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلیمہ کا بیان ہے: آپ کی نشو ونما عام بچوں سے بالکل الگ تھی۔ یہاں تک کہ نو ماہ کی عمر میں آپ فصیح (صاف) گفتگو فرماتے تھےاور جب دس ماہ کے ہوئے توتیر اندازی کی بھی قدرت حاصل ہوگئی۔1 تھوڑے بڑے ہوئے تو دوسرے بچوں کے برخلاف آپ کو کھیل تماشے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔حضرت حلیمہ فرماتی ہیں : ایک دفعہ رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے:” لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ قُدُّوْسًا قُدُّوْسًا، نَامَتِ الْعُیُوْنُ وَ الرَّحْمٰنُ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَانَوْمٌ 2 یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے، پاک ہے، آنکھیں سو گئیں لیکن رحمٰن کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند“۔
آپ کےتشریف فرمارہنے تک بنو سعد میں خوشیوں کا راج رہااور وہ لوگ آپ کی برکتوں کے مزے لوٹتے رہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے دو سال کا عرصہ ختم ہو گیا اور آپ کا دودھ چھڑا دیاگیا۔ بی بی حلیمہ دستور کے مطابق آپ کو واپس آپ کی والدہ کےپاس لے آئیں۔ عجیب اتفاق کہ انہی دنوں مکہ شریف میں کوئی وبا آئی ہوئی تھی۔ بی بی حلیمہ نے موقع غنیمت جانا اور سیدہ آمنہ کو اس بات پر راضی کر لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مزید کچھ دن قبیلہ بنو سعد میں رہ جائیں۔ جب دوبارہ بی بی آمنہ کے لال کو اپنے قبیلے لائیں تو گھر گھر خوشی کے چراغ روشن ہوگئے۔4 آپ کی رضاعی بہن حضرت شیما رضی اللہ عنہا کی مسرت کی تو انتہا نہ رہی، اب وہ آپ کو کھلاتیں، پلاتیں اور لوریاں دے دے کر آپ کا دل بہلاتیں۔3 وہ جن
1 سیرت حلبیہ، 1/133
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص 67
3 مراٰۃ المناجیح، 8/20 ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع