30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگا۔ان عجائبات سے اہلِ دنیا کو متوجہ کرنا مقصود تھا کہ عن قریب آفتابِ رسالت اور ماہتابِ نبوت طلوع ہونے کو ہے۔ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ ولادت کے دن قریب آتے ہی پھر سے کسی نے انہیں یہ ہدایت دی: جب وہ نو مولود دنیا میں تشریف لے آئیں تو کہیے گا: میں اسے ہر حاسد کے شر سے خدائے واحد کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس کا نام محمد رکھنا!1 اس نام کا مطلب ہے:”وہ کہ جس کی بار بار تعریف کی جائے۔“ یہ نام آسان، دلکش اور پیارا ہونے کے ساتھ ساتھ نیا اور انوکھا بھی تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ولادت کے ساتویں دن آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور اپنے قبیلے والوں کی زبردست دعوت کا اہتمام فرمایا۔ اسی دعوت میں آپ نے اپنے پوتے کے نامِ نامی ”محمد“ کا اعلان کیا۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ” اَرَدْتُ اَنْ یَحمَدَہُ اللہ فِی السَّمَاءِ وَخَلْقُہ فِی الْاَرْض یعنی میری خواہش ہے کہ آسمان کا خالق بھی اس کی تعریف کرے اور زمین میں اُس کی مخلوق بھی اِس کی تعریف کرے۔“2
فصلِ بہار آ گئی:
آخر کار وہ وقت آن پہنچا اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو آئیں۔ یہ اپریل کا مہینا تھا اور بہار اِک اور بہار کے لئے منتظر و بے قرار تھی، یہ سن 571ءکی ایک صبح تھی، اس صبح
1 طبقات ابن سعد، 1/79- البدایۃ والنہایۃ، 2/219
2 سیرت حلبیہ، 1/115
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع