30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ آمنہ :
یہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امی جان ہیں۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ددھیال عزت و شان والا ہے ایسے ہی آپ کا ننھیال بھی باوقار و باکمال ہے۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے: میں عرب کے دو سب سے افضل قبیلوں بنی ہاشم و بنی زُہرہ سے پیدا ہوا۔1 اس فرمان میں بنی ہاشم سے مراد آپ کا ددھیال جبکہ بنی زُہرہ سے مراد آپ کا ننھیال ہے۔ حضرت بی بی آمنہ خاندانِ بنو زہرہ کی نیک اور باعزت و باوقار خاتون ہیں۔ بی بی آمنہ نہایت پارسا، پرہیز گار، طہارتِ نفس، شرافتِ نسب اور عزت و وجاہت والی صاحبِ ایمان خاتون تھیں۔آپ قریش کی عورتوں میں حسب نسب اور فضیلت میں سب سے ممتاز تھیں۔2 جاہلیت کے اس دور میں جبکہ بے پردگی اور آوارگی بہت عام تھی، حضرت آمنہ ایسے امور سے کوسوں دور تھیں۔ تاریخِ خمیس میں ہے: حضرت بی بی آمنہ انتہائی پردہ دار خاتون تھیں، ہمیشہ گھر کی چار دیواری میں رہتیں، نا محرم مردوں سے ملنا اور ان کی خبریں سننا بالکل پسند نہ فرماتیں۔3آپ کلام پر قدرت رکھنے وا لی شاعرہ تھیں۔ اپنے شوہرِ نامدار حضرت عبد اللہ کے وصال پر ایک قصیدے میں اپنے جذبات کا جس طرح آپ نے اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے شوہر سے بے پناہ محبت تھی اور آپ عربی زبان دانی میں مہارت بھی رکھتی تھیں۔ آپ کا وصال دورانِ سفر ابواء 4 شریف کے مقام پر
1 تاریخ ابن عساکر،3/ 401
2 دلائل النبوۃ،1/102ملخصاً
3 تاریخ الخمیس، 1/ 42
4 ابواء (Abwa) وادی مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان میں سمندرکی طرف واقع ہے۔ اس کا فاصلہ مکہ شریف سے تقریباً261 جبکہ مدینہ شریف سے تقریباً 222کلومیٹر ہے۔ یہاں ایک غزوہ بھی درپیش ہوا جس میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی ۔ آج کل وادیِ ابواء خَرِیبہ کے نام سے مشہور ہے۔(آخری نبی کی پیاری سیرت،ص26 بتغیر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع