30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذبیحوں کا بیٹا ہوں یعنی اسماعیل اور عبد اللہ ۔1
ذبح کے واقعے کے بعد حضرت عبد اللہ کی شہرت اور بڑھ گئی۔ کئی خواتین نے ان کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر نکاح کی خواہش کی مگر سب کو انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے والد حضرت عبدالمطلب کی حقیقت شناس نگاہوں نے اپنے اس جواں سال اور حسین و جمیل فرزند کے رشتے کیلئے خاندانِ بنوزہرہ کے سردار وہب بن عبدِ مناف2 کی نہایت نیک و پارسا نورِ نظر حضرت آمنہ کا انتخاب کیا۔ حضرت عبدالمطلب خود وہب کے گھر تشریف لے گئے اور اس رشتے کو تکمیل تک پہنچایا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعدحضرت عبد ا للہ کو ان کےوالد نے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام بھیجا، وہاں آپ بیمار ہوگئے، واپس جب مدینہ شریف پہنچ کر اپنے ننھیال میں قیام فرمایا تو طبیعت مزیدخراب ہوگئی، یوں یہ وہیں رک گئے ، بقیہ قافلے والے مکہ شریف آگئے، آپ وہاں ایک ماہ بیمار رہ کر وفات پاگئے۔اس وقت آپ کی عمر25سال تھی۔ حضرت عبد اللہ نے اپنے تَرکے میں 5اونٹ، چند بکریاں اور ایک حبشی نسل کی کنیز حضرت اُمِّ اَیمن بَرَکہ کو چھوڑا۔آپ کی تدفین مدینہ شریف کے محلے بنوعدی کے دارُالنّابِغہ میں کی گئی۔3 اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس وقت اپنی امی جان کے شکمِ اقدس میں تھے ۔
1 شرف المصطفیٰ،2/74
2مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نانا جان حضرت وہب بن عبدمناف قرشی ہیں ،آپ نسب اور شرف دونوں اعتبار سے بنو زہرہ کےسردار تھے، جبکہ آپ کی نانی حضرت برہ بنت عبدالعزی قرشیہ تھیں جوکہ حضرت بی بی خدیجۃ الکبری کی پھوپھی زا د بہن ہیں ۔(تاریخ ابن ہشام،ص 65 ملتقطا)
3 طبقاتِ ابن سعد ،1/79، 80-مواہب ِ لدنیہ، 1/63
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع