30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جل تھل ہو جاتا، اپنی اولاد کو نیک اوصاف اور حُسنِ سلوک کی تلقین کرتے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی اولاد میں بھی یہ اوصاف نظر آتے ہیں۔
برسوں پہلے زم زم کا کنواں بند ہوگیا تھا اور لوگ اسے بھلا بیٹھے تھے، اِنہوں نے اپنے بیٹے حارث کے ساتھ مل کر کھدائی کی تو رب کے فضل و نصرت سے اسے دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔1انہی کے دور میں ابرہہ کا مشہور واقعہ پیش آیا، جسے واقعہ فیل2 بھی کہا جاتا ہے۔ اپنی حیات میں رفادہ اور سقایہ کے منصب انہی کے پاس رہےجوان کی وفات کے بعد ان کی اولاد میں ابو طالب اور پھر حضرتِ عباس کے پاس منتقل ہوئے۔ حضرت عبدالمطلب کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عمر کے آٹھویں سال (579ء) میں ہوا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 85 یا 120 سال تھی۔3 تدفین خاندانی دستور کے مطابق حجون(جنت المعلیٰ) میں کی گئی۔ آپ کے 13 بیٹے تھے:(1)عبد اللہ ،(2) حمزہ، (3) عباس، (4)ابوطالب (عبدِمناف)، (5) زُبیر، (6)حارث، (7)غِیداق، (8)ضِرار، (9)قثم، (10)مُقَوِّم، (11) حَجْل، (12)عبدالکعبہ
1 طبقات ابن سعد ،1/68
2 یمن کے عیسائی حکمران اَبرہہ نے صَنْعَا میں کلیسا بنوایا، اسے سونے سے آراستہ کیا اور لوگوں کو اس کا حج اور طواف کرنے کی دعوت دی۔ ایک عربی نے اس میں بَول و بَراز (پیشاب، پاخانہ ) کردیا، اس وجہ سے ابرہہ کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ لشکر کے ہمراہ مکہ شریف پر حملہ آور ہوا، لشکر میں ہاتھی بھی تھے اس لئے اس لشکر والوں کو اَصحابُ الفِیل کہا جاتا ہے۔ اہلِ مکہ آس پاس کے پہاڑوں پر چلے گئے مگر حضرت عبدالمطلب حرم شریف میں گئے اور کعبہ شریف کا غلاف پکڑ کر دعا کی کہ اے مولا! تو اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ اللہ پاک نے سمندر کی جانب سے چھوٹے چھوٹے اَبابیل پرندوں کا لشکر بھیجا جن کے پنجوں اور چونچوں میں پتھر تھے۔ انہوں نے یہ پتھر لشکر پر پھینکے جس سے یہ ہلاک ہوگئے۔ (تفسیرخازن،پ30،الفیل،تحت الآیۃ:1، 4/407تا410 ماخوذاً)
3 سبل الہدیٰ والرشاد، 1/267
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع