30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگئے(آپ کی وفات ہوگئی)۔ آپ کا مزار غزہ شہر میں ہے۔1 آپ کے چار بیٹے ہوئے: (1)عبدالمطلب،(2) اسد، (3)ابوصَیفِیّ اور(4) نضلہ ۔2
حضرتِ عبدالمطلب:
ان کی پیدائش اپنے ننھیال مدینہ شریف (اس وقت کے یثرب)میں ہوئی، ان کے سر کے کچھ بال سفید تھے، اسی لیے نام شَیْبَۃ الحمد (وہ بوڑھے جن کی بڑائی و عظمت کی تعریف کی جائے) رکھا گیا۔ان کی کنیت ابوالحارث اور ابوالبطحا ہے۔ یہ پیدائش کے بعد مدینہ شریف میں رہے، جب سات سال کے ہوئے تو ان کے چچا مطلب انہیں مکہ شریف لے آئے، جب کوئی پوچھتا:یہ کون ہے؟ تو کہتے: عبدالمطلب(مطلب کا غلام)۔ اسی وجہ سے عبدالمطلب کے لقب سے ہی پکارے جانے لگے۔ جب آپ جوان ہوئے تو رِفادہ اور سِقایہ کے منصب آپ کو سونپ دئیے گئے۔3 حضرت عبدالمطلب طویل قد، مضبوط جسم کے ساتھ خوبصورت اور سنجیدہ طبیعت تھے۔4 آپ بلند ہمتی، جودو سخاوت، جوانمردی اور دوسرے نیک اوصاف کی وجہ سے اہلِ مکہ کی آنکھوں کا تارہ تھے۔ ان کا چہرہ نورِ مصطفیٰ سے ایسا روشن تھا کہ نور کی کرنیں پھوٹتیں، جسم سے خوشبو کی لپٹیں اٹھتیں، نین و نقش سے برکت کے آثار نمایاں رہتے، دعائیں کرتے تو قبول ہوتیں، آپ وہ پہلے شخص ہیں جو رَمَضان شریف کے آتے ہی غارِ حرا میں جا کر مصروفِ عبادت ہو جاتے، قحط میں آپ کے وسیلے سے دعائیں مانگی جاتیں تو
1 سبل الہدیٰ والرشاد ، 1/ 262
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ص47
3 السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/25تا 30
4 طبقات ابن سعد ،1/66ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع