30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سقایہ،1 رفادہ،2ندوہ،3 حجابہ،4 لواء5 اور قیادہ 6 کے منصب بنائے۔ ان کے چار بیٹے تھے: (1)عبدمناف، (2)عبدالدار، (3)عبدالعزیٰ اور (4)عبد بن قصی۔ انہوں نے سقایہ اور ندوہ عبدمناف، حجابہ اور لواء عبدالدار اور رفادہ عبدالعزیٰ کے سپرد کیے، جبکہ وادیِ مکہ کی حفاظت (یعنی قیادہ کی ذمہ داری) عبد بن قصی کے حوالے کی۔ ان کا وصال مکہ شریف میں ہوا اور حَجُون7 میں دفن کئے گئے۔ بعد میں ان کے خاندان والوں کو بھی یہیں دفن کیا جانے لگا۔ آج کل اس مقام کو جنّت المعلیٰ کہا جاتا ہے۔
1 سِقایہ ایک منصب ہے، جس کے تحت حاجیوں کو پانی پلایا جاتا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لدحلان،1/25 ،26ملخصاً)
2 رِفادہ ایک منصب ہے جس کے تحت حاجیوں کو کھانا کھلانے اور ان کی حاجات پوری کرنے کی ذمّہ داری نبھائی جاتی تھی ۔(السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/25)
3 ندوہ کے منصب کے تحت قریش اپنے سارے فیصلے کیا کرتے تھے۔حضرت قصی نے ایک عمارت بنائی جسے دارالندوہ کہا جاتا تھا۔(السیرۃ النبویۃ لدحلان،1/25)
4 حجابہ ایک منصب ہے جس کے تحت کعبہ شریف کے انتظامی امور سرانجام دئیے جاتے تھے۔
(السیرۃ النبویۃ لدحلان،1/26، 27)
5 لواء کے منصب کے تحت جنگی معاملات کی نگرانی ہوتی تھی۔ (السیرۃ النبویۃ لدحلان،1/27)
6قیادہ کے منصب پر فائز سردار تجارتی قافلوں اور جنگوں کی قیادت کیا کرتا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/25ماخوذاً)
7 حَجُوْن ایک پہاڑ کانام ہے، اس کے دامن میں موجود قبرستان کو حجون کہتے تھے، اب اس کا نام جَنَّتُ الْمَعْلٰی ہے، یہ مکہ شریف کا مشہور ترین قبرستان ہے جو حجون روڈ پر حرم شریف سے المعابدہ محلے کی طرف جانے والے شخص کے دل کی جانب پڑتا ہے۔حرم شریف سے اس کا فاصلہ ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر ہے۔ اِس کا کل رقبہ ایک لاکھ مربع میٹر ہے،لیکن اب حَجُوْن پہاڑ کی کٹائی کرکے اس میں مزید توسیع کا کام جاری ہے۔جَنَّتُ الْمَعْلٰی دنیا کا دوسرا سب سے افضل قبرستان ہے۔(مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ) حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جَنَّتُ الْمَعْلٰی کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’یہ کیا ہی اچھا قبرستان ہے۔‘‘ (مسند احمد، 1/785، حدیث:3472)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع