30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نام سے مشہور ہوئے۔ ان کا نکاح بنو خُزاعہ کے سردار اور کعبہ شریف کے نگران و منتظم حُلَیْل کی بیٹی حبی(ح ُ،بَ،یّ) سے ہوا۔حلیل کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ابوغبشان کعبہ شریف کا متولی ہوا۔ حضرت قصی نے اس سے تولیت(انتظام سنبھالنے ) کا حق خرید لیا۔ اس پر اس کے خاندان بنو خزاعہ اور بنو بکر کو اپنی فکر پڑ گئی کہ کہیں ہم اپنے منصبوں سے محروم نہ ہو جائیں تو یہ جنگ کی تیاری کرنے لگے، حضرت قصی نے یہ دیکھ کر اپنے خاندان کو مدد کے لئے بلایا، جب جنگ ہوئی تو کوئی بھی فاتح نہ ہو سکا، دونوں گروہ نے صلح کرنے کا سوچا ، ایک شخص کوحکَم(فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا، اس نے خون بہا معاف کر دیا اور حضرت قصی کو کعبہ شریف کا متولی بنادیا ۔ چنانچہ حضرت قصی نے بنو خزاعہ اور بنو بکر کو مکہ شریف سے نکال دیا اور قریش جو عرب کے مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے انہیں مکہ شریف میں جمع کر دیا۔ قریش کامعنیٰ ہے: جمع کرنا۔ قریش کو یہ نام دینے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جب حضرت قصی نے عرب میں بکھرے ہوئے اپنے قبیلے کو مکہ شریف میں جمع کیا تو اس خاندان کو قریش کہا جانے لگا۔1 اہلِ قریش نے حضرت قصی کو اپنا حاکم و سربراہ مان لیا۔ آپ نہایت ذہین، بلند ہمت، بہادر اور قریش کے اہم ترین سردار تھے، آپ کی رائے عمدہ اور قول سچا ہوتا، سخاوت کے دریا اور پاک و صاف کردار کے مالک تھے، قریش آپ کے کارناموں پر فخر کرتے تھے۔ خود بھی حاجیوں کی خدمت کرتے اور قریش کو بھی اس پر ابھارتےتھے۔ انہوں نے مکہ شریف کے کاموں کا ایک سسٹم بنایا اور کاموں کی تقسیم کاری کی، انہوں نے
1 السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/22
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع