30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وصیت فرمائی: ”جب میرا انتقال ہوجائے، مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، اِسی گھرمیں میری قبرکے کنارے پر اِسی چارپائی پر مجھے لٹادینا اور کچھ وقت کے لئے حجرے سے باہرنکل جانا کیونکہ سب سے پہلے میری نمازِ جنازہ جبریلِ امین، پھر میکائیل، پھر اِسرافیل، پھر ملکُ الموت اپنے لشکروں سمیت پڑھیں گے، اِس کے بعد میرے اہلِ بیت سے مَرد، پھر عورتیں، پھر گروہ درگروہ داخل ہوکر نمازِجنازہ1 اَدا کرنا۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔2
اسی دن حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما حاضرہوئے تو اُن کے ہاتھ میں سبز مسواک تھی، حضورنے رغبت فرمائی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُسے نرم کرکے پیش کیا، آپ نے اُسے عادتِ کریمہ سے ہٹ کر زیادہ استعمال فرمایا۔3 رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بیماری کے ایام میں آخری کلام اور دعا مبارک یہ تھی:” اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی یعنی اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور رفیقِ اعلیٰ سے مجھے ملادے۔“4 اِسی دن جانِ عالم، خاتم الانبیاء والمرسلین، رحمتِ دوعالم، بے کسوں کے
1 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جنازۂ اقدس پر نماز کے باب مختلف ہیں۔ بہت سے علماء اسی کے قائل ہیں کہ نماز نہ ہوئی، لوگ گروہ در گروہ صلاۃ وسلام عرض کرتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ پر جب تک بیعت نہ ہوئی تھی، لوگ فوج در فوج آتے اور نماز پڑھتے جاتے۔ جب بیعت ہوگئی تو حضرت ابوبکر شرعاً ولی بن گئے پھر اِنہوں نے جنازۂ مقدس پر نماز پڑھی ۔ ان کے بعد پھر کسی نے نہ پڑھی۔ (فتاویٰ رضویہ، 9/314 ملخصاً)
2 سیرت سیدالانبیاء، ص600
3 مدارج النبوت، 2/426-سیرت سیدالانبیاء، ص602
4 ترمذی، 5/299، حدیث: 3507
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع