30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے میں رہنے کی اجازت طلب فرمائی، تمام امہات المؤمنین نے اجازت دے دی۔ یوں آخری 8 دن سیدہ عائشہ کے حجرے میں قیام فرما رہے۔1 آخر کے کچھ دن جب مرض میں شدت ہوئی تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ یوں انہوں نے جمعرات کی عشا سے پیر کی نمازِفجر تک 17 نمازیں پڑھائیں۔2 8 ربیع الاول بروز جمعرات آپ منبر کی جانب آئے اور تشریف فرما ہو کر خطبہ بھی ارشاد فرمایا، اس میں اپنی وفات کا اشارہ دیا جسے صرف حضرت ابوبکر نے سمجھا۔ 3
عظیم حادثے کا دن:
بارہ ربیع الاول کو پیر کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے حکم پر نمازِ فجر پڑھا رہے تھے۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کمرے کا پردہ ہٹایا اور اپنے غلاموں کو دیکھا۔ آپ کا رخِ انور ایسے چمکنے لگا جیسے مصحف کا ورق ہو۔ پھر آپ نے تبسم فرمایا۔ نمازیوں کو جب احساس ہوا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم انہیں دیکھ رہے ہیں تو قریب تھا کہ وہ نماز توڑ دیتےتو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال دیا۔4 بیماری کے ایام میں ہی آپ نے صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کو جنازے سے متعلق یہ
1 سیرت سیدالانبیاء، ص597
2 سیرت سیدالانبیاء، ص600- سیرت مصطفیٰ، ص542، مدارج النبوۃ، 2/421
3 سیرت سیدالانبیاء، ص600ملخصاً
4 بخاری، 1 /242 ، حدیث:680
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع