30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک آواز کا رس گھلا ہوا تھا۔
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ذوالحج شریف کی چار تاریخ کو مکے میں داخل ہوئے، طواف فرمایا، مقامِ ابراہیم میں نفل ادا فرمائے، صفا و مروہ کی سعی فرمائی، 8 ذوالحجہ کو منیٰ تشریف لے گئے، پھر 9 تاریخ کو عرفات گئے، یہاں آپ نے کمبل کے ایک خیمے میں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء“ پر سوار ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ اس خطبے میں آپ نے بہت سے ضروری احکامات کا اعلان فرمایا اور زمانۂ جاہلیت کی تمام برائیوں اور بیہودہ رسموں کو مٹانے کا اعلان فرمایا۔1
الوداعی خطبے کے اقتباسات:
اس خطبے کے چند اقتباسات یہ ہیں:
*(اے لوگو!) اپنے رب سے ڈرو اور نمازِ پنجگانہ ادا کرو! رمضان کے روزے رکھو! مالوں کی زکوٰۃ دو! اپنے اہلِ امر کی اطاعت کرو! تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔2 * اللہ کریم فرماتاہے: ”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو، بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔“ پس کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر بَرتری ہے سوائے تقویٰ کے۔3 *آگاہ رہو ! بےشک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ
1 آخری نبی کی پیاری سیرت، ص121
2 ترمذی، 2/119، حدیث:616
3 معجم کبیر، 18/12، حدیث:16
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع