30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3)حبشہ کے بادشاہ حضرت اصحمہ نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات بھی اسی سال ہوئی۔1
حجۃ الوداع:
سن دس ہجری کا اہم اور عظیم الشان واقعہ ”حجۃ الوداع“ ہے۔ اسے حجۃ الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ یہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری حج تھا اور آپ نے ہجرت کے بعد یہی ایک حج فرمایا۔جیسے ہی آپ نے اس حج کا اعلان فرمایا لوگوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ ایک بہت بڑی تعداد آپ کی رفاقت کاشرف پانے کیلئے بے قرار ہوگئی۔ حضرت جابر فرماتےہیں: ”لوگوں کی بہت بڑی تعداد مدینے آگئی، سب کی ایک ہی تمنا تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نقشِ قدم پر چلیں اور حضور جو بھی عمل کریں لوگ اس کی پیروی کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بہت بڑی تعداد کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے اور مقامِ ذوالحلیفہ (ابیارِ علی) آکر قیام فرمایا۔ یہیں احرام باندھا اور نفل پڑھے، پھر اپنی اونٹنی ”قصواء“ پر جلوہ فرما ہوئے اور تلبیہ پڑھتے ہوئے ایک ٹیلے پر تشریف لے گئےاور بآوازِ بلند تلبیہ کہا، لوگ بھی آپ کے ساتھ لبیک کی صدائیں بلند کرنے لگے۔“2
یقیناً یہ مناظر کہ جب امامُ الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے ایک لاکھ سے زائد غلاموں کےساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے سوئے مکہ روانہ ہوں گے تو شمس و قمر، شام و سحر، سنگ وشجر اور سب خشک و تر جھومنے لگے ہوں گے۔ تلبیہ کی یہ مدھ بھری صدائیں آج سے پہلے نہ سنی گئیں اور نہ قیامت تک سنائی دیں گی ،کیونکہ ان آوازوں میں اللہ کے حبیب صلی اللہ
1 شرح الزرقانی علی المواہب، 5 / 25
2 مسلم، ص489، حدیث:2950 ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع