30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دراز علاقوں سے بھی کثرت سے لوگوں کے وفود آئے، اسی وجہ سے اس سال کو ”عَامُ الوُفُود“ بھی کہتے ہیں۔ ”وُفُودٌ“ عربی میں ”وَفْدٌ“ کی جمع ہے۔ وفد ایک سے زائد افراد کے گروہ کو کہتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تبلیغ کیلئے جب مبلغین کو بھیجتے تو بعض قبیلے مبلغین کے ہاتھوں مسلمان ہو جاتے جبکہ بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے کہ براہِ راست بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر جمالِ نبوت کی زیارت کریں اور اپنے اسلام کا اظہار کریں۔اسی لیے کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندے بن کر مدینہ شریف آتے اور خود اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زبانِ مبارک سے دعوتِ اسلام سن کر اپنے اسلام کا اعلان کرتے اور پھر واپس اپنے اپنے قبیلوں میں جا کر انہیں بھی مسلمان کرتے۔ ایسے وفود مختلف زمانوں میں مدینے آتے رہے مگر نوہجری میں ان کی قطار لگ گئی۔ ایک قول کے مطابق اس سال تقریباً 60 وفد آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان وفود کے استقبال کیلئے خاص اہتمام فرماتے تھے اور ان کی خوب مہمان نوازی ہوتی تھی۔ آپ خود ان سے بڑی خندہ پیشانی سے گفتگو فرماتے، ان کی باتوں کو مکمل توجہ سے سنتے، مناسب جوابات عطا فرماتے، ان کی حاجتوں کی تکمیل کا سامان فرماتے اور پھر انہیں اسلام کے ضروری احکام و عقائدوغیرہ کی تعلیم و تلقین فرماتے تھے۔ ہر وفد کو ان کے حساب سے تحائف و انعامات بھی عطا فرماتے تھے۔
سن نوہجری کے متفرق واقعات:
(2،1)اسی سال زکوۃ کا حکم نازل ہوا اور سود کو حرام قرار دیا گیا۔ بعد میں سود کی حرمت کا خوب اعلان ہوا۔ 1
1 سیرتِ مصطفیٰ، ص504
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع