30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجدِ ضِرار کا واقعہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اسی غزوے سے واپسی پر جب مدینہ شریف کے قریب ایک علاقے میں ٹھہرے تو منافقین نے آپ سے درخواست کی کہ اُن کی مسجد میں تشریف لے چلیں۔ دراصل منافقوں نے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کیلئے ایک مرکز بنایا اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اسے مسجد کا نام دے دیا۔ اس میں بیٹھ کر منافقین مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ اللہ پاک نے ان کی اس سازش کا پردہ چاک فرمایا اور سورۂ توبہ کی آیات نازل فرما کر آپ کو اس جگہ جانے سےروکا۔ تب رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بعض صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کو حکم دیا کہ اس مسجد کو گرا کر جلا دیں۔1
حضرت صدیقِ اکبر بطور امیرِ حج:
اسی سال رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ذوالقعدہ کے مہینے میں تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ حج کیلئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج، حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو نقیبِ اسلام اور حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت جابر بن عبد اﷲ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو مُعَلّمِ مقرر فرمایا۔اسی حج میں یہ اعلان کیا گیا کہ اب کوئی بھی ننگا ہوکر طواف نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی مشرک بیت اللہ میں داخل ہو سکےگا۔2
وفود کے آنے کا سال:
حج کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام لانے لگے۔اسلام کا ایسا ڈنکہ بجا کہ عرب کے دور
1 تفسیر خازن، پ11، التوبۃ، تحت الآیۃ:107، 2 /281
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص527، 528 ملتقطا -بخاری ، 3 /128، حدیث:4363 بتغیر قلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع