30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا ناگزیر ہوگیا۔ آپ نے حضرت ابو عامراشعری رضی اللہ عنہ کو کمانڈر بنا کر تھوڑی فوج ”اوطاس“ بھجوا دی۔ حضرت ابوعامر تو شہید ہو گئے لیکن اسلامی لشکر فتح یاب ہوا۔ ان کے فوجی گرفتار ہوئے اور قیدی بنے۔1
غزوۂ طائف:
اوطاس کے بعد طائف2 میں پناہ لینے والی فوج کی باری آئی۔ یہ وہی شہر ہے جہاں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ظالمانہ سلوک ہواتھا لیکن آپ نے یہاں کے لوگوں کی ہدایت کیلئے دعا فرمائی تھی۔ طائف کے چاروں طرف فصیل تھی اس لیے یہ بہت مضبوط پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پہلےیہاں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر بھیجا، بعد میں خود بھی تشریف لے آئے۔ کافروں نے جب اسلامی لشکر کو دیکھا تو وافر مقدار میں دانہ پانی لے کر طائف میں چلے گئے اور دروازے بند کر دیئے۔ انہوں نے لشکرِ اسلام پر پوری قوت سے تیروں کی بوچھاڑ کر دی جس سے کچھ مسلمان شہید ہوئے اور کچھ زخمی ہوئے۔ دوہفتوں سے زائد محاصرہ جاری رہا مگر شہر فتح ہونے کی امید نہیں تھی ۔ شہر کی دیواریں اتنی مضبوط تھیں کہ منجنیق بھی اثر نہ ڈال سکی۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جنگ کے ماہرین سے مشورہ کیا تو حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ ! لومڑی اپنے بھٹ میں ہے۔ اگر کوشش جاری رہی تو
1 شرح الزرقانی علی المواہب، 3 /532، 533 ملتقطا
2 اس کا ذکر طائف کے سفر کےد وران گزر چکا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع