30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبائل کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کی نیت سے نکل پڑے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب اطلاع ہوئی تو آپ بارہ ہزار کا لشکر لے کر ان کے مقابلے کو نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ”حنین“1 نامی جگہ پر دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ شروع میں مسلمانوں نے خوب ہاتھ دکھائے اور ایسا حملہ کیا کہ کافروں کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی۔ مگر ان کی وہ فوج جو گھات لگائے ہوئے تھی اس نے جب حملہ کیا تو اسلامی لشکر میں افراتفری مچ گئی۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ثابت قدم رہے اور اس نازک موقع پر آپ نے انصار و مہاجرین کو پکارا، اس کے ساتھ ساتھ حضرت عباس رضی اللہ عنہ جن کی آواز بلند تھی، انہیں حکم دیا کہ وہ انصار و مہاجرین کو بلائیں۔ ان کی آواز سنتے ہی انصار و مہاجردونوں واپس پلٹے اور کفار کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے پھر سے بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ تھوڑی ہی دیر میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے، کچھ قتل ہوئے اور ایک تعداد نے ہتھیار ڈال دیئے اور واضح فتح نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدموں کا بوسہ لیا۔ اس غزوہ میں ہزاروں قیدی اور ڈھیروں ڈھیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔2
اوطاس کا سریہ:
حنین میں کافروں کی فوجیں شکست کھا کر کچھ تو ”اوطاس“ چلی گئیں اور کچھ ”طائف“ کے قلعے میں پناہ گزیں ہوئیں۔ انہیں مکمل طور پر شکست دینے کیلئے ان دونوں جگہوں پر حملہ
1حنین ایک وادی ہے، جو مکہ شریف سے تقریباً 29 اور مدینہ شریف سے 462کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
2شرح الزرقانی علی المواہب،3/496 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع