30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیت اللہ شریف میں داخلہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس کے بعد اونٹنی پر بیٹھ کر اپنے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھا کر مسجدِ حرام کی طرف روانہ ہوئے۔1 زمانے کی عجب چال ہے کہ ”بت شکن“ حضرت ابراہیم علیہ الصّلوٰۃُ والسّلام کے ہاتھوں کی یادگار خانہ ٔ خدامیں آج تین سو ساٹھ بت قطار در قطار موجود ہیں۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں اور بنفسِ نفیس ایک چھڑی لے کر بتوں کو مار مار کر گراتے جاتے ہیں۔2 وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱)3 یہ آیتِ مبارکہ وردِ زباں ہے۔ یوں اندر و باہر سارے بت گرا کر وہاں سے نکلوائے پھر کعبے کے اندر تشریف لے گئے۔ بیت اللہ شریف کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی ادا فرمائی اس کے بعد باہر تشریف لائے۔4
دشمنوں کے ساتھ سلوک:
اس کے بعد رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم دشمنوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آج اہلِ مکہ اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کیلئے سر جھکائے آپ کے سامنے تھے۔ ان میں آپ کو سب و شتم کا نشانہ بنانے والے بھی تھے اور آپ کی راہ میں کانٹے بچھانے والی بھی۔ آج وہ بھی تھے جو آپ
1بخاری،3/ 104،حدیث:4289ملخصاً
2بخاری،3/103،حدیث :4287
3 ترجمہ:اورتم فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔(پ15،بنی اسرائیل:81)
4بخاری،1/156،حدیث : 398ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع