30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے بعض افراد نے حضرت سعد کی یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تک پہنچا کر دہائی دی۔ آپ نے فرمایا: سعد نے ٹھیک نہیں کہا، اس کے بعد آپ نے حضرت سعد سے جھنڈا لے کر ان کے ہی صاحبزادے حضرت قیس کو عطا فرما دیا۔ تاکہ انہیں حقیقت کا ادراک بھی ہو جائے اور ان کا دل بھی نہ ٹوٹے۔1
عاجزی و انکسار کے پیکر:
دنیا کا اصول ہے کہ جب کوئی بڑی فتح ملے تو فاتحین کی شان ہی الگ ہوتی ہے۔ سر فخر سے بلند ہوتے، سینے خوشی سے پھولے ہوتے، گردنیں بالکل سیدھی ہوتیں، باچھیں کھلی ہوتیں، گفتگو کا تیور بھی بدلا ہوتا اور انداز بھی شاہانہ ہو جاتے ہیں، اَلْغَرَض!فاتحین کی ایک ایک کیفیت اور ایک ایک ادا گویا چیخ چیخ کر فتح کا اظہارکر رہی ہوتی ہے۔ لیکن فاتحِ مکہ، والئ مدینہ، امام الانبیا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی عاجزی و انکساری کی شان ہی عجب ہے۔ حال یہ کہ گردن اتنی جھکی ہوئی ہے کہ کجاوہ سرِ انور کے بوسے لینے کے قریب ہے۔ اللہ اکبر!! 2
مکہ شریف میں داخلہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مکے میں داخل ہوتے ہی اپنی چچازاد بہن حضرت اُمِّ ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے، وہاں غسل فرمایا اورپھر آٹھ رکعت نماز چاشت پڑھی۔ 3 حضرت اُمِّ ہانی نے عرض کیا کہ میں نے دو افراد کو امان
1شرح الزرقانی علی المواہب، 3/402 تا 406ملخصاًو ملتقطاً
2شرح الزرقانی علی المواہب، 3/434
3بخاری،3/104،حدیث : 4292
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع