30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوری روداد بارگاہِ رسالت میں عرض کی۔ جذبات کی آگ جب سرد ہوئی تو قریش نے ٹھنڈے دل سے پوری صورت حال کا جائزہ لیا ، معاہدہ توڑنے کی اپنی بات پر انہیں خوب ندامت ہوئی مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ انہوں نے قاصد مدینے بھیج کر معاہدے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بے نتیجہ رہی۔
جنگ کی تیاری اور روانگی:
رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہجرت کے آٹھویں سال رمضان کے مہینے میں جنگ کی تیاری کا حکم فرما دیا۔ جنگ کی تیاری بڑی رازداری اور خاموشی سے کی گئی تاکہ قریش تک اس کی اطلاع نہ پہنچے۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ماہِ رمضان کی دس تاریخ کو کم و بیش دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بعض قبائل راستے میں ساتھ ہوئے تو لشکر کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی۔1 آپ نے مکہ میں داخلے سے پہلے فوج کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا۔ ایک حصے میں آپ خود موجود تھے جبکہ دوسرا حصہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں دے کر انہیں دوسرے راستے سے مکہ میں داخلے کا حکم فرمایا۔آپ نے امن کیلئے اعلان فرمایا جو ہمارے مقابل نہیں آئے گا اس کے لیے امان ہے۔ اس اعلان کا یہ اثر ہوا کہ مسلمان بغیر کسی بڑی جنگ کے مکہ شریف میں داخل ہو گئے۔ لشکرِ انصار کے کمانڈر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جہاں سے گزرتے تو یہ رجزیہ شعر پڑھتے : اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ یعنی آج کادن سخت لڑائی کا دن ہے، آج کعبہ میں خون بہانے کا دن ہے۔ ان کے اشعار سن کر قریش بڑے پریشان ہوئے، انہیں اپنا سلوک یاد آنے لگا اور یہ یقین ہونے لگ گیا کہ زمین باوجود وسعت کے ان پر تنگ ہو گئی ہے۔ قریش
1شرح الزرقانی علی المواہب، 3/395 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع