30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوکر آپ کا حلیف بننے کی خواہش ظاہر کی جو آپ نے منظور فرمائی۔ جبکہ بنوبکر نےفریقِ مخالف یعنی قریشِ مکہ سے معاہدہ کر لیا۔بنو بکر کچھ عرصے تک تو معاہدے پر عمل کرتے رہے مگر پھر شیطان نے ان کو راہ سجھائی اور انہوں نے بنو خزاعہ پر اچانک سے حملے کا پروگرام بنایا۔ قریشِ مکہ کو نہ صرف اس بارے میں مکمل اعتماد میں لیا بلکہ ان کی حمایت بھی حاصل کی۔ بنوخزاعہ کو گمان بھی نہ تھا کہ ایسا ہوگا کیونکہ وہ معاہدے کے بعد مطمئن تھے۔ بنو بکر نے رات کے وقت حملہ کیا اور بنوخزاعہ کے لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے۔ وہ اس اچانک آنے والی آفت سے بچنے کیلئے حدودِ حرم میں داخل ہوگئے کہ یہاں انہیں امان ملنے کا یقین تھا۔ مگر یہاں بھی انہیں تلواروں اور تیروں کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ صبح ہوئی تو حرم اور اس کے باہر ہر طرف ان کے لاشے بکھرے ہوئے تھے اور زخمی تڑپ رہے تھے، مگر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا ۔ قریش ان کے قتل پر مطمئن تھے اور انہیں کوئی فکر نہیں تھی۔
معاہدے کا اختتام:
بنوخُزاعہ قبیلے کے بچ جانے والے لوگوں میں سے چند کا وفد مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور فریاد کی۔ آپ نے انہیں تسلی دی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا ۔ تحقیق کے بعد آپ نے قریش کے پاس ایک قاصد بھیجا اور انہیں تین تجاویز دیں۔
(1)بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کی جائے۔
(2)اہلِ مکہ بنو بکر سے دوستی کا معاہدہ ختم کر دیں۔
(3)ورنہ حدیبیہ کے معاہدے کے کالعدم(ختم) ہونے کا اعلان کر دیں۔
قریش نے پہلی دو تجویزوں کو اپنے لیے ندامت اور شرمندگی کا باعث سمجھا اور جذبات میں آکر معاہدے کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔ قاصد یہ سن کر واپس آ گئے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع