30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمانوں کو آواز دے کر فرمایا کہ اپنے میں سے کسی کو سپہ سالار چُن لو، تو مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو چُن لیا اور لشکر کی قیادت ان کے سپرد کردی۔1 حضرت خالد نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو جمع کیا، لشکر کی ترتیب تبدیل کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور آگے پیچھے کے مجاہدین کی آپس میں جگہ بدل دی، دشمن نے سمجھا شاید مسلمانوں کو مزید مدد مل گئی ہے جس سے ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور وہ شکست کھاتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے۔2 اس دن مسلمانوں نے شدید لڑائی لڑی، یہاں تک کہ صرف حضرت خالد کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں3 یہ جنگ سات دن تک جاری رہی۔4
جنگ کا نتیجہ:
دو لاکھ کے مقابلے میں صرف تین ہزار کا لشکر سات دن تک ڈٹا رہا اور صرف تیرہ مجاہدین شہید ہوئے۔ سات دن کے بعد جب دشمن کا لشکر ہزیمت اٹھاتا ہوا پیچھے ہٹنے لگا تو حضرتِ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی کمال حکمت و دانائی سے کام لیتے ہوئے لشکر کو پیچھے ہٹانا شروع کر دیا۔ دشمن کی 66گنا زیادہ تعداد کے ساتھ ٹکرانا، سات دن تک ڈٹے رہنا، صرف 13 مجاہدین کا شہید ہونا، پھر دشمن کے لشکر کا پلٹ کر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکنا اور حضرت خالد بن ولید کا اپنے لشکر کو صحیح وسالم مدینۂ طیبہ لے آنا فتح اور کامیابی سے کم نہیں ہے۔5
علمائے کرام کی ایک تعداد ہے جو اس جنگ کو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے موجود
1سیرت حلبیہ، 3/97
2 دلائل النبوة للبیہقی،4/370
3بخاری،3/97،حدیث:4265
4سبل الہدی والرشاد، 6/151
5شرح الزرقانی علی المواہب،3/348ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع