30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔1
حضرت جعفراور حضرت عبداللہ کی شہادت:
حضرت زید کی شہادت کے بعد حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے پرچم تھام لیا، شیطان نے آپ کے دل میں موت سے نفرت اور زندگی کی مَحبّت بڑھانے کی کوشش کی، آپ نے فرمایا: مؤمنین کے دلوں میں ایمان پختہ ہونے کا وقت تو اب ہے اور تُو مجھے دنیا کی لالچ دے رہا ہے۔2 یہ کہہ کر دُشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔ دشمن نے آپ کے دونوں بازو جسم سے جدا کر دیئے۔ آپ نے پھر بھی پرچم نہ چھوڑا۔ یہاں تک کہ جسم کے دو حصے کر دیئے گئے۔ آپ کے جسم کے ایک حصے پر 80سے زیادہ زخموں کے نشانات تھے۔3 اللہ کریم نے عالمِ برزخ میں انہیں کٹے ہوئے بازؤں کے بدلے دو پَر عطا فرمائے۔4 حضرت جعفر کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے حضرت عبدُ اللہ بن رَواحہ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ اس وقت یہ لشکر کی دوسری جانب تھے اور تین دن سے بھوکے تھے، اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا کھانے کے لئے ہاتھ میں پکڑا ہی تھا کہ حضرت جعفر کی شہادت کا سُن کر اس گوشت کو چھوڑا اور پرچم ِاسلام ہاتھ میں لے کر لشکر کی کمان سنبھال کر بےجگری سے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔ دلیری اور جاں بازی کے ساتھ لڑتے ہوئے زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر گر پڑے اور جامِ شہادت نوش کرگئے۔
”سیف اللہ“ حضرت خالد بن ولید:
ان تینوں کی شہاد ت کے بعد حضرت ثابت بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا اور
1شرح ابی داؤد للعینی،6/41 ، 42، حدیث:1557 ملخصاً- سیرتِ مصطفیٰ،ص404
2دلائل النبوۃ لابی نعیم،جز:2 ، 1/316
3 مواہب لدنیہ، 1/301-تاریخ الخمیس، 2/459
4معجمِ اوسط، 5/164، حدیث: 6932
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع